بابر اعظم ٹیم میں تنہا بیٹسمین ہے، وقار یونس
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وقار یونس نے بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے قومی ٹیم کی موجودہ بیٹنگ لائن پر سوالات اٹھا دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بابر اعظم پاکستان کے سپر سٹار ہیں، لیکن موجودہ ٹیم میں ان کے علاوہ کوئی ایسا نمایاں بیٹر دکھائی نہیں دیتا جس پر اسی طرح مستقل اعتماد کیا جاسکے۔
بھارتی کرکٹ تجزیہ کار شبھنکر مشرا کی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ بابر اعظم کے لیے سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ قومی ٹیم میں تنہا دکھائی دیتے ہیں اور بیٹنگ کا زیادہ تر دباؤ انہی پر ہوتا ہے۔
سابق کپتان کے مطابق اگر بابر اعظم کے ساتھ مزید چار یا پانچ بڑے اور قابلِ اعتماد بیٹرز موجود ہوتے تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی اور ان پر ہر میچ میں بڑی اننگز کھیلنے کا دباؤ بھی کم ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ جب پوری ٹیم کی امیدیں صرف ایک کھلاڑی سے وابستہ ہوجائیں اور ہر میچ میں اسی سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھی جائے تو فطری طور پر اس کھلاڑی پر غیر معمولی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
وقار یونس نے پاکستان کی 90 کی دہائی کی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں قومی ٹیم کے ابتدائی چھ بیٹرز کی اپنی الگ شناخت تھی اور ہر کھلاڑی میں انفرادی طور پر میچ جتوانے کی صلاحیت موجود تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ پاکستانی ٹیم میں بابر اعظم کے علاوہ کتنے ایسے بیٹرز ہیں جنہیں اسی اعتماد اور پہچان کے ساتھ یاد کیا جاسکتا ہے۔
سابق فاسٹ بولر نے بھارتی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سچن بھی اپنے طویل کیریئر کے دوران مکمل طور پر تنہا نہیں تھے، بلکہ انہیں مختلف ادوار میں دیگر تجربہ کار اور بڑے بیٹرز کا ساتھ حاصل رہا۔
وقار یونس کے مطابق سچن ٹنڈولکر کے کیریئر کے ابتدائی دور میں سنجے منجریکر اور نوجوت سنگھ سدھو جیسے کھلاڑی موجود تھے، جبکہ بعد میں راہول ڈریوڈ، سارو گنگولی، وی وی ایس لکشمن اور وریندر سہواگ جیسے عالمی معیار کے بیٹرز بھارتی بیٹنگ لائن کا حصہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی موجودگی سے سچن ٹنڈولکر پر انفرادی کارکردگی کا دباؤ کم رکھنے میں مدد ملتی تھی، جبکہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں بابر اعظم کو اس نوعیت کی مضبوط بیٹنگ سپورٹ حاصل نہیں۔
وقار یونس نے کہا کہ بابر اعظم نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز میں اتنی شاندار کارکردگی دکھائی کہ شائقین کرکٹ کی ان سے توقعات غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں۔
ان کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ اگر بابر اعظم مسلسل چار یا پانچ میچز میں نمایاں رنز نہ بناسکیں تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے ہر میچ میں یکساں کارکردگی دکھانا ممکن نہیں۔
وقار یونس نے بابر اعظم کی صورتحال کا موازنہ بھارتی سٹار بیٹر ویرات کوہلی سے بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی بڑے کھلاڑی سے ہر میچ میں سنچری، نصف سنچری یا بڑی اننگز کی توقع کی جائے تو چند میچز میں ناکامی بھی شدید تنقید کی وجہ بن جاتی ہے، کیونکہ ایسے کھلاڑی اپنی گزشتہ شاندار کارکردگی کی وجہ سے توقعات کا معیار بہت بلند کرچکے ہوتے ہیں۔