ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی جیسے مسائل حل کرنا ضروری ہے، مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا اہم سرمایہ اور معاشی ترقی کی بڑی طاقت ہیں۔ نوجوانوں کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیت دے کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، جبکہ پنجاب حکومت نے ہنرمندی کی تربیت کے اداروں کو مربوط نظام کے تحت لانے کے لیے 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
پنجاب انویشن فار ویلیو اپرچیونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ صنعتی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے بغیر ملک میں تیز رفتار معاشی پیش رفت ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار کے لیے مالی وسائل کی دستیابی، خصوصی اقتصادی زونز کا قیام، ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی اور توانائی کی لاگت جیسے مسائل حل کرنا ضروری ہے، تاہم صرف ان اقدامات سے کاروباری ماحول مکمل طور پر بہتر نہیں ہوسکتا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صنعت کاروں اور کاروباری برادری کو درپیش دیگر مشکلات بھی دور کرنا ہوں گی تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرسکیں اور کاروبار کو وسعت دے سکیں۔
مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران ان کی حکومت نے کاروباری برادری کی شکایات دور کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے امن و امان کی بہتر صورتحال کو کاروبار کی ترقی کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملازم کو تنخواہ لے کر گھر جاتے ہوئے لوٹ مار کا خوف ہو یا صنعت کاروں کو کارخانوں سے اغوا اور بھتہ خوری کا خدشہ لاحق ہو تو ایسے ماحول میں کاروبار ترقی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں اور ملازمین کو کام پر آنے جانے اور کاروبار چلانے کے لیے تحفظ اور ذہنی سکون درکار ہوتا ہے۔
مریم نواز کے مطابق روزانہ احتجاج، سڑکوں کی بندش اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔
عوامی سفری سہولیات کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں میٹرو بس، اورنج لائن اور گرین بس جیسے منصوبوں کا کریڈٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے مزدور اور ملازمین کم کرائے میں اپنے کام کی جگہوں تک پہنچ رہے ہیں، جبکہ کاروباری برادری نے بھی انہیں بتایا ہے کہ ان سہولیات کی بدولت کارکنوں کے لیے آمدورفت آسان ہوئی ہے۔
لاہور کی فیروزپور روڈ پر قائم صنعتی علاقے کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہاں موجود صنعتوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے بجائے ایسے مؤثر طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں جن سے ماحول اور صنعت دونوں کا تحفظ ممکن ہو۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاہم محض انتباہ جاری کرنے کے بعد فیکٹریاں بند کردینا یا پیداواری یونٹس سیل کرنا مناسب طریقہ نہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق فیکٹری بند ہونے سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ اسی فضا میں شہری اور ان کے بچے سانس لیتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صنعتی یونٹس کی نگرانی اور ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد ضروری ہے، لیکن مسائل کے حل کے لیے ایسا طریقہ اختیار ہونا چاہیے جس سے کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہنرمند افرادی قوت کی کمی کو پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ 58 لاکھ 60 ہزار افراد پر مشتمل افرادی قوت موجود ہے، لیکن مختلف صنعتوں کو اپنی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ کارکن دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعتوں اور مارکیٹ کی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ نوجوانوں کو جدید اور متعلقہ مہارتیں فراہم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔
مریم نواز کے مطابق پنجاب حکومت نے ہنرمندی کی تربیت سے متعلق مختلف اداروں اور محکموں کو ایک مشترکہ نظام کے تحت منظم کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد تربیتی پروگراموں کو صنعتی اور کاروباری شعبوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے تاکہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت مختلف صنعتوں میں درکار مہارتوں کی نشاندہی کرکے نوجوانوں کو اسی نوعیت کی عملی تربیت دی جانی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی آبادی اور محنت کرنے والی افرادی قوت موجود ہے، جسے مناسب تربیت اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرکے معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔
مریم نواز کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو صنعتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں اور ملک میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔