اوگرا نے اکتوبر کے لیے آر ایل این جی مہنگی کردی، دونوں گیس کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے دونوں سوئی گیس کمپنیوں کے نرخوں میں اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔
اوگرا کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں 14.01 فیصد جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے 15.27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد سوئی ناردرن کے لیے آر ایل این جی کی نئی قیمت 17.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور سوئی سدرن کے لیے 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
اوگرا کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے دو ایل این جی کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ستمبر میں سوئی ناردرن کے لیے آر ایل این جی کی قیمت 15.19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ سوئی سدرن کے لیے 14.22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی۔
دوسری جانب قدرتی گیس کی قیمتوں کا ہر تین ماہ بعد تعین کرنے کی تجویز بھی سینیٹ میں پیش کردی گئی ہے۔
جمعے کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2026 سینیٹ میں پیش کیا، جس کے ذریعے اوگرا آرڈیننس 2002 میں نئی دفعہ 8 اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت قدرتی گیس کی لائسنس یافتہ کمپنیاں ہر تین ماہ بعد اپنی مجموعی آمدن کی ضروریات اور گیس کی لاگت کا تخمینہ اوگرا کو جمع کرائیں گی۔
تاہم یہ حساب صرف کنوؤں سے حاصل ہونے والی گیس اور درآمدی گیس، بشمول ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی)، کی لاگت تک محدود ہوگا۔
اوگرا ان تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو گیس کی قیمتوں کے تعین سے متعلق سفارشات بھیجے گا۔
اس کے بعد وفاقی حکومت 30 روز کے اندر صارفین کی مختلف اقسام کے لیے کم از کم چارجز اور گیس کی فروخت کی قیمتوں کا تعین کرکے انہیں سرکاری گزٹ میں شائع کرنے کی ہدایت دے گی۔
بل میں وفاقی حکومت کو یہ اختیار دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ اوگرا کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا مکمل یا کچھ حصہ آئندہ چھ ماہ کے لیے گیس کی قیمتوں کے تعین میں شامل کرنے کی ہدایت دے سکے۔
مجوزہ بل کی ایک اہم شق کے مطابق نئی دفعہ 8 اے کے تحت قیمتوں میں تبدیلی کے لیے اوگرا عوامی سماعت نہیں کرے گا۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سہ ماہی بنیادوں پر گیس کی قیمتوں میں تبدیلی سے پہلے صارفین کو عوامی سماعت کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا بنیادی مقصد گیس کے نرخوں کو مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ کرنا اور روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات بروقت قیمتوں میں شامل کرنا ہے۔
اس کے علاوہ درست قیمتوں کا تعین، گیس کے شعبے میں گردشی قرضوں کے جمع ہونے کو روکنا اور گیس کی فراہمی کے نظام کے مالی اور عملی استحکام کو یقینی بنانا بھی اس ترمیم کے مقاصد میں شامل ہے۔
مجوزہ بل کے مطابق منظوری کی صورت میں نیا قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔