سکردو: پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی اور ان کے دو کمسن بچے قتل
سکردو کے علاقے مدینہ کالونی کے قریب پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی اور ان کے دو کمسن بچوں کے قتل کے خلاف لواحقین اور مقامی شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چاروں مقتولین کی لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کردی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
واقعہ مدینہ کالونی کے قریب ایک رہائشی مکان میں پیش آیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے گھر میں موجود ایک ہی خاندان کے چار افراد کو تیز دھار آلات کے وار کرکے قتل کردیا۔
ابتدائی رپورٹس میں مقتولین کی شناخت غلام عباس، ان کی اہلیہ ہانیہ زہرا، بیٹے مہدی اور بیٹی دیا زہرا کے ناموں سے کی گئی ہے۔
غلام عباس کا تعلق سکردو کے علاقے روندو، تلو بروق سے تھا، جبکہ ان کی اہلیہ ہانیہ زہرا پاراچنار سے تعلق رکھتی تھیں۔
واقعے سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مقتول میاں بیوی نے تقریباً چھ سال قبل پسند کی شادی کی تھی اور ان کے دو کمسن بچے تھے۔
واقعے سے متعلق ایک اور بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واردات کی رات خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گھر میں موجود تھیں، جبکہ ان کے شوہر ڈیوٹی پر گئے ہوئے تھے۔
حملہ آور رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے اور پہلے بچوں اور ان کی والدہ کو قتل کیا، جبکہ شوہر کے ڈیوٹی سے واپس آنے پر انہیں بھی گھر کے برآمدے میں نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق سفاک قاتلوں نے میاں بیوی اور بچوں کو تیز دھار آلے سے ذبح کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی، چاروں لاشیں تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کیں اور گھر سیل کرکے شواہد اکٹھے کیے۔
ابتدائی اطلاعات میں قتل کو پسند کی شادی سے منسلک کرتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے واردات کا حتمی محرک ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی۔
مقتول شوہر کے لواحقین نے مقتولہ کے خاندان کے بعض افراد کے ممکنہ ملوث ہونے کا شبہ بھی ظاہر کیا، تاہم کسی مخصوص شخص کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے سکردو کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کردی ہے۔
ڈی آئی جی بلتستان آصف مہمند کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب ایک ہی خاندان کے چار افراد، خصوصاً دو کمسن بچوں کے قتل کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
مقتولین کے لواحقین، عزیز و اقارب اور مقامی شہریوں نے چاروں لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا۔
سکردو کے علاقے گمبہ میں دھرنے کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی، جبکہ مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، قتل کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
لواحقین اور شہریوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں سے بھی انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی اپیل کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے چار افراد کے قتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو شواہد محفوظ کرنے، واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔
متعلقہ انتظامیہ کو مقتولین کے لواحقین کے ساتھ رابطے میں رہنے اور ضروری معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
قتل کے اصل محرکات، واردات کی مکمل ترتیب اور ملوث ملزمان کی شناخت کی حتمی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔