Breaking News

پاکستان نے مسلم دنیا کو نئی راہ دکھائی، سمندر پار طاقتوں کے فوجی اڈے تحفظ کی ضمانت نہیں، خواجہ آصف

پاکستان نے مسلم دنیا کو نئی راہ دکھائی، سمندر پار طاقتوں کے فوجی اڈے تحفظ کی ضمانت نہیں، خواجہ آصف
۱ منٹ پہلے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیتوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اسلامی دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر پار طاقتوں کے فوجی اڈے کسی ملک کے تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتے، اصل حفاظت اپنی قوت اور صلاحیت پر انحصار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ 

سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا اور ملک کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ 

کانووکیشن میں خواجہ آصف کا استقبال پنجاب کالج کے ڈائریکٹر پروفیسر اصغر علی اور پرنسپل ڈاکٹر عظیم نے کیا، جبکہ تقریب میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ 

وزیر دفاع نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے معرکہ حق میں اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر دنیا میں اپنی عسکری صلاحیت اور طاقت منوائی۔ 

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جنگیں ہوئیں، لیکن ان کے نتائج سے متعلق کچھ نہ کچھ ابہام باقی رہ جاتا تھا، تاہم ان کے بقول معرکہ حق کے بعد خود بھارتی رہنماؤں نے شکست تسلیم کی۔ 

وزیر دفاع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ 11 مرتبہ بھارت کی شکست اور 70 مرتبہ بھارتی طیاروں کے گرنے کا ذکر کرچکے ہیں۔ 

خواجہ آصف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے اور ملک کو عالمی سفارتی سطح پر وہ اہمیت حاصل ہوئی ہے جو ان کے بقول گزشتہ 78 برس میں حاصل نہیں ہوسکی تھی۔ 

علاقائی سلامتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ بیرونی طاقتوں کے فوجی اڈے لازمی طور پر میزبان ممالک کے تحفظ کے لیے قائم نہیں کیے جاتے، بلکہ ان طاقتوں کے اپنے مفادات بھی ان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کو یہ غلط فہمی تھی کہ سمندر پار قوتوں کے فوجی اڈے ان کی حفاظت کریں گے، حالانکہ کسی ملک کی حفاظت کا اصل ذریعہ اس کی اپنی طاقت اور صلاحیت ہوتی ہے۔ 

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے، جبکہ پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات اور دوریاں بھی کم ہوئی ہیں۔ 

انہوں نے دعا کی کہ دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ہوں۔ 

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں اور ملک کی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔ 

اپنے سیاسی سفر پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 21 سال بینکاری کے شعبے میں کام کیا اور 1991 میں عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے عوام نے انہیں تقریباً 36 برس سے عزت اور اعتماد دیا ہے، جبکہ سیاسی زندگی کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے بھی انہیں عزت ملی۔ 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی شخصیت ہیں، لیکن تعلیمی اداروں میں عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اپنے سیاسی سفر کے دوران انہیں چار سے پانچ مرتبہ قید کا سامنا کرنا پڑا اور کئی مواقع پر محسوس ہوا کہ وہ سیاست کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ 

وزیر دفاع نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی قید رکھا گیا۔ 

ان کے مطابق 2020 میں وہ تقریباً ساڑھے چھ سے سات ماہ نیب کی تحویل میں رہے، لیکن گرفتار کرنے والے ان کے خلاف الزامات واضح نہیں کرسکے۔ 

خواجہ آصف نے نیب کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے بعض اوقات پہلے کسی شخص کو گرفتار کرتے ہیں اور بعد میں سوچتے ہیں کہ اس کے خلاف کون سا مقدمہ بنایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گزشتہ 78 برس کی سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کی ذمہ داری سے سیاست دان خود کو الگ نہیں کرسکتے۔ 

وزیر دفاع کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے مسائل میں سب کا حصہ ہے اور وہ خود کو بھی اس نظام سے الگ یا بے قصور نہیں سمجھتے۔ 

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر اپنے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان میں اب بھی سیاسی سرگرمیوں کے لیے توانائی موجود ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر بھی کئی مرتبہ سیاست دانوں کو اپنا احتساب خود کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ 

خواجہ آصف نے فارغ التحصیل طلبہ سے گفتگو کو اپنے لیے باعث مسرت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سے ملاقات کرکے انہیں نئی توانائی ملتی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں