میں حادثے کا ذمہ دار نہیں، دل کر رہا ہے خودکشی کر لوں، یہ میری آخری ویڈیو ہو سکتی ہے، مسٹر پتلو
سیالکوٹ میں شادی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے پہلی بار ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور اعلیٰ حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت وہ ہسپتال میں زیرِ علاج تھے اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ میرا دل کررہاہے خودکشی کر لوں ،یہ میری آخری ویڈیو ہوسکتی ہے۔
مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو پیغام میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس واقعے کا اتنا ہی دکھ ہے جتنا متاثرہ خاندانوں کو ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی کی تقریبات کے سلسلے میں 5 تاریخ کو مہندی، 6 کو بارات اور 7 کو ولیمہ تھا، جبکہ انہوں نے عوام کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
مسٹر پتلو کے مطابق اس تقریب کا مقصد غریب بچیوں کی شادیاں کروانے، مستحق افراد میں راشن، نقد رقم اور تحائف تقسیم کرنے سمیت عوام کی مدد کرنا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریب کے انعقاد سے پہلے باقاعدہ این او سی حاصل کیا گیا تھا، جبکہ 10 سے 15 روز قبل ایک ویڈیو کے ذریعے آنے والے لوگوں کو دھکم پیل سے بچنے، قطار کا خیال رکھنے اور اپنے سامان کی حفاظت کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
انصر محمود کا کہنا تھا کہ تقریب سے ایک روز قبل وہ اسی گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوگئی اور وہ زمین پر گر پڑے۔
ان کے مطابق چار افراد نے انہیں اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
مسٹر پتلو نے دعویٰ کیا کہ جب بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا تو وہ بشیر ہسپتال میں اپنی ایم آر آئی کروا رہے تھے اور انہیں بعد میں حادثے کی اطلاع ملی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد انہوں نے پروگرام منسوخ کرنے سے متعلق ویڈیو جاری کی تھی۔
ٹک ٹاکر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں انہیں سٹیڈیم میں موجود ظاہر کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے بقول وہ اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ سٹیڈیم کے کیمروں کی فوٹیج، ہسپتال کا ریکارڈ اور دیگر شواہد چیک کرکے مکمل تحقیقات کی جائیں۔
مسٹر پتلو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد لوگوں کا ہجوم ان کے گھر اور فارم ہاؤس پہنچ گیا، جہاں سامان درہم برہم ہوگیا، تاہم بعد میں پولیس نے پہنچ کر صورتحال سنبھالی۔
انہوں نے کہا کہ اپنے ملک میں شادی کرنے اور خوشیاں عوام کے ساتھ بانٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق تقریب میں پاکستانی پرچم لگائے گئے اور قومی ترانہ بھی چلایا گیا۔
مسٹر پتلو نے کہا کہ وہ غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی لیے مستحق افراد کی مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن ایک حادثے کے بعد انہیں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ ان کے بھائیوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انصر محمود نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ وہ واقعے کا نوٹس لیں اور مکمل تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں اور صحت بہتر ہونے کے بعد خود متعلقہ حکام کے سامنے پیش ہوجائیں گے، تاہم فی الحال کمر کی شدید تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔
ویڈیو کے دوران مسٹر پتلو کئی مرتبہ جذباتی ہوگئے اور کہا کہ واقعے کے بعد ان کے قریبی لوگوں نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، جبکہ انہیں اپنے والدین کے بارے میں بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
انہوں نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ان کی آخری ویڈیو ہوسکتی ہے۔
مسٹر پتلو نے ایک مرتبہ پھر متاثرہ خاندانوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شادی کی تقریب میں ایسا حادثہ نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی ان کا کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ تھا۔
واضح رہے کہ مسٹر پتلو کی جانب سے حادثے کے وقت ہسپتال میں موجود ہونے اور واقعے سے لاتعلقی کے دعوے ان کا اپنا مؤقف ہیں، جن کی تصدیق تحقیقات سے ہونا باقی ہے۔