پنجاب میں کرپشن کی الماریاں بھر چکی ہوں گی، سالک حسین؛ عظمیٰ بخاری کا بھی جواب
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے پنجاب حکومت کی کارکردگی، صوبائی وسائل کی تقسیم اور ملک کے سیاسی و انتظامی نظام پر سخت تنقید کی ہے، جس پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ردعمل دیتے ہوئے ان کے الزامات مسترد کردیے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ قیصر احمد شیخ نے موجودہ نظام کے بارے میں جو باتیں کی ہیں وہ حقیقت پر مبنی ہیں۔
پنجاب میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں، تاہم وہ روزانہ کرپشن کی کہانیاں سنتے ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ صوبے میں کرپشن کی فائلیں نہیں بلکہ الماریاں بھر چکی ہوں گی۔
وفاقی وزیر نے صوبائی بجٹ کی تقسیم پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے زیادہ تر وسائل لاہور پر خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ جن اضلاع میں حکومتی امیدوار کامیاب نہیں ہوتے انہیں ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر سالک حسین نے کہا کہ کوئی بھی شخص بڑے محل کو چھوڑ کر 10 مرلے کے گھر میں منتقل ہونا پسند نہیں کرے گا۔
انہوں نے سرکاری جہازوں کے استعمال اور شاہانہ اخراجات پر بھی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جانے چاہییں۔ سرکاری جہاز ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہییں اور سرکاری دوروں سے واپسی پر ان کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
بیوروکریسی اور انتظامی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے سالک حسین نے کہا کہ نظام میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں اور بعض افراد دوسرے ایجنڈوں پر کام کرکے ملکی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ ان کے مطابق اداروں کو ایسے عناصر کی نشاندہی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزرا کے اختیارات محدود کرکے ان سے کارکردگی کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں، پہلے انہیں بااختیار بنایا جائے اور پھر نتائج طلب کیے جائیں۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سالک حسین نے انہیں اپنے مشاہدے میں پنجاب کا بہترین وزیراعلیٰ قرار دیا۔ ان کے مطابق پرویز الہٰی کے دور میں ترقیاتی کام بلاامتیاز ہوتے تھے اور صوبے کی مجموعی ترقی پر توجہ دی گئی۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ پرویز الہٰی کی رہائی میں چوہدری شجاعت حسین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سالک حسین کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے سے پسند ناپسند کی سیاست کا خاتمہ کردیا ہے اور اب قبضہ مافیا اور بااثر افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سفارشوں کے ذریعے اپنے ڈیروں کے ملازمین کو نوازنے کا سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنی پسند کا ڈپٹی کمشنر تعینات نہ ہونے پر اتنی ناراضی مناسب نہیں، کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب کسی کی سفارش پر انتظامی افسران کی تعیناتی نہیں کرتیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام شہروں میں بلاامتیاز ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں اور مختلف علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے طلبہ کی طرح گجرات، ملتان، رحیم یار خان، ساہیوال اور سرگودھا کے بچوں کو بھی لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق لاہور میں چلنے والی الیکٹرک بسوں کی سہولت ملتان، وہاڑی اور رحیم یار خان تک بھی پہنچائی گئی ہے، جبکہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز نے پنجاب کے بجٹ کی تقسیم کو شفاف اور منصفانہ بنایا ہے اور چھوٹے شہروں کو بھی ترقیاتی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ لاہور میں رائج صفائی کا نظام دیہی علاقوں تک بھی توسیع دیا گیا ہے۔
سرکاری جہاز کے استعمال پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز پہلی وزیراعلیٰ ہیں جنہوں نے سرکاری جہاز استعمال کرنے پر رقم ادا کی ہے۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ موجودہ پنجاب حکومت نے گجرات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ترقیاتی منصوبوں پر 12 ارب روپے خرچ کیے ہیں اور وہ کام بھی مکمل کرائے ہیں جو بہت پہلے ہوجانے چاہییں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کسی کسان کو ٹریکٹر یا طالب علم کو لیپ ٹاپ اور سکالرشپ دینے سے پہلے اس کی سیاسی وابستگی نہیں پوچھتیں، کیونکہ صوبے کے تمام شہری وسائل اور سرکاری خزانے پر مساوی حق رکھتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سالک حسین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جس تھالی میں کھا رہے ہیں اسی میں چھید نہ کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وفاقی وزیر بیان بازی کرنے کے بجائے شافع حسین سے حقائق معلوم کرلیتے تو بہتر ہوتا۔