لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں سے جیل میں ملاقات کرانے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی کی دونوں بیٹیوں کو 3 نومبر کی صبح 10 بجے جیل میں اپنی والدہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے ملاقات کے لیے ایک گھنٹے کا وقت مقرر کردیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے سکینہ اور شاہ ریز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی، جس میں بانی پاکستان تحریک انصاف کی بہنوں کی نظربندی کے نوٹیفکیشن میں توسیع کو چیلنج کیا گیا ہے۔
دوران سماعت عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے وکیل ملاقات کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور کو باقاعدہ درخواست دیں، جس پر ڈپٹی کمشنر اگلے روز صبح 10 بجے دونوں بیٹیوں کی والدہ سے ملاقات یقینی بنائیں۔
عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظربندی کے نوٹیفکیشن میں توسیع کے معاملے پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔
دوسری جانب علیمہ خانم کی نظربندی میں توسیع کے خلاف دائر درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔
عدالتی حکم پر سیکرٹری داخلہ نے متعلقہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نورین نیازی کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈاکٹرز کی ہدایت پر انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔
سرکاری وکیل نے مزید بتایا کہ نورین نیازی کے علاج کے دوران 29 اکتوبر کو حاجرہ نیازی کی اپنی والدہ سے ملاقات بھی کرائی جاچکی ہے۔