Pakistan

پی ٹی آئی میں گروپ بندی یا تقسیم نہیں، سیاسی کمیٹی کا گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ

پی ٹی آئی میں گروپ بندی یا تقسیم نہیں، سیاسی کمیٹی کا گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ
۱ منٹ پہلے

پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے پارٹی میں گروپ بندی یا اختلافات کے باعث تقسیم کی اطلاعات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پوری جماعت بانی پی ٹی آئی کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ متحد ہے۔ 

سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پارٹی رہنما اور کارکنان مشترکہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 

اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، بڑھتی مہنگائی اور امن و امان کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ 

سیاسی کمیٹی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، سپیکر اور دیگر پارلیمنٹیرینز کی حراست کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کے مطابق منتخب عوامی نمائندوں کو حراست میں رکھنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ 

اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر دونوں کی ہسپتال منتقلی تشویشناک معاملہ ہے۔ 

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور ان کی صحت کے بارے میں اہلخانہ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے۔ 

سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ملاقات اور عیادت کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ بشریٰ بی بی کے لیے مناسب طبی سہولیات اور اہلخانہ سے ملاقات کے انتظامات یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ 

اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے مبینہ سلوک کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

کمیٹی نے ایم این اے عادل بازی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں پر تحفظات ظاہر کیے اور ایم پی او کے تحت حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ 

پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے عمر ایوب، شیر علی ارباب اور شاہ احد کے گھروں پر مبینہ چھاپوں اور توڑ پھوڑ کی مذمت کی۔ 

اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاسی مخالفین کے گھروں اور ان کے اہلخانہ کو نشانہ بنانا قابل مذمت عمل ہے۔ 

سیاسی کمیٹی نے ملک میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سنگین مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ 

کمیٹی کے مطابق شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں