نئے فارمولے سے پیٹرول 15 روپے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان، وزیر پیٹرولیم کا اعلان
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مقامی آئل ریفائنریز کے تعاون سے تیار کیے جانے والے نئے فارمولے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی ممکن ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اولین ترجیح عوام کو مہنگائی کے اثرات سے زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئل ریفائنریز کے ساتھ کل اہم اجلاس ہوگا، جس میں پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق نئے فارمولے اور دیگر معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ ان کے مطابق ریفائنریز کے تعاون سے عوام کو پیٹرول 15 روپے فی لیٹر سستا فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جمعہ کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع تھا، تاہم حکومت نے مقامی ریفائنریز کی مدد سے یہ ممکنہ اضافہ روک دیا۔
علی پرویز ملک کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کے پریمیم بڑھنے سے ملکی معیشت پر دباؤ پڑا ہے۔ پاکستان سٹیٹ آئل کے حالیہ ٹینڈرز میں بھی مختلف مسائل کے باعث قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ خریداری میں شفافیت بہتر بنانے اور اضافی اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ بھی صارفین تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت کی خصوصی پیٹرول رعایت سے 13 ملین سے زائد صارفین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے اہل مالکان کو عالمی بحران سے پہلے والی قیمت پر پیٹرول فراہم کرنے کی پالیسی پر بھی عمل کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت مخصوص طبقات کو ہدف بنا کر ریلیف فراہم کررہی ہے تاکہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا زیادہ بوجھ عام شہریوں پر نہ پڑے۔
علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ ملک میں پیٹرول کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنے کے لیے عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت نے ایندھن کی ممکنہ قلت سے بچنے اور سپلائی کا نظام مستحکم رکھنے کے لیے متوازن قیمتوں کی پالیسی اختیار کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خام تیل کی دستیابی بہتر ہونے کے بعد مقامی ریفائنریز کو ریکارڈ منافع حاصل ہوا، جبکہ انہی ریفائنریز کے تعاون سے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کا ممکنہ اضافہ روکا گیا۔ ان کے مطابق مقامی ریفائنریز نے حج پیکیج سے متعلق ایوی ایشن فیول کی پرانی قیمتوں پر فراہمی بھی یقینی بنائی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پیٹرول کی قیمت میں متوقع 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق مقامی آئل ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کریں گی تاکہ صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیا جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی فیول سبسڈی سکیم موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے شروع کی گئی ہے، جس سے اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوچکے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیول سبسڈی سکیم کے تحت عوام کو اب تک 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جاچکا ہے، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر ہفتہ وار 500 روپے رعایت دینے کا طریقہ کار بھی تیار کرلیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ عالمی معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان کے اہم معاشی اشاریے مستحکم ہیں اور ملکی معیشت بڑے نقصان سے محفوظ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی توانائی بحران اور معاشی مشکلات کے اثرات عوام تک کم سے کم منتقل کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ محدود رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔