ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا
ایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد منگل کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 20 سینٹ یعنی 0.21 فیصد اضافے کے ساتھ 96.66 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 سینٹ یا 0.03 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 104.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اس سے قبل پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کے دونوں بڑے بینچ مارکس کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کی وجہ ایرانی اور قطری حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو قرار دیا گیا، جن سے ایران کے خلاف جاری امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی تھی۔
تاہم جزیرہ قشم پر امریکی حملوں کی نئی اطلاعات کے بعد تیل کی منڈی میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ 8 ماہ سے جاری تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی عالمی ترسیل طویل عرصے تک متاثر ہونے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں قیمتوں کا حالیہ اتار چڑھاؤ ظاہر کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی فوجی اور سفارتی صورتحال بدستور توانائی کی تجارت پر اثر انداز ہورہی ہے۔