Business

بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں ہم ملوث نہیں، شمالی کوریا

بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری میں ہم ملوث نہیں، شمالی کوریا
۵ گھنٹے پہلے

شمالی کوریا نے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالرز مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی مبینہ چوری میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ 

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حکمراں جماعت کی اہم رہنما اور شمالی کوریائی سربراہ کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر سخت ردعمل دیا۔ 

کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کو مبینہ سائبر حملے کا ذمہ دار قرار دینا مضحکہ خیز اور من گھڑت الزام ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ان کے ملک کی ساکھ متاثر کرنا ہے۔ 

انہوں نے امریکی الزامات کو شمالی کوریا کے خلاف سنگین سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دنیا بھر میں ہونے والے سائبر جرائم کی ذمہ داری پیانگ یانگ پر ڈال کر بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے گزشتہ ہفتے بائنانس سے 6 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی مبینہ چوری کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا تھا۔ 

امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں شمالی کوریا کی حمایت یافتہ ہیکنگ تنظیمیں مبینہ طور پر ملوث تھیں، تاہم پیانگ یانگ نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ 

شمالی کوریا نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں اور سائبر جرائم کی مخالفت کرتا ہے اور اس واقعے میں اس کا کوئی کردار نہیں۔ 

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے اور بڑی کرپٹو کرنسی کمپنیاں چوری شدہ اثاثوں سے منسلک ڈیجیٹل والٹس اور اکاؤنٹس کی نگرانی کررہی ہیں۔ 

رپورٹس کے مطابق مشتبہ لین دین کی نشاندہی اور مبینہ طور پر چوری ہونے والی رقوم کو مزید منتقل ہونے سے روکنے کے لیے متعلقہ ڈیجیٹل اثاثے منجمد کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ 

ادھر بائنانس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے مبینہ مالی نقصان پورا کرنے کے لیے اپنے ذخائر استعمال کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ 

تاہم 6.3 ارب ڈالرز کی مبینہ چوری کی رقم، واقعے کی مکمل نوعیت اور شمالی کوریائی ہیکرز کے ملوث ہونے کے دعوؤں کی اس خبر کے لیے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ 

اس معاملے نے ایک مرتبہ پھر امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان سائبر سکیورٹی اور مبینہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ڈیجیٹل جرائم سے متعلق اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں