سری لنکا کےخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے تیز پچز بنانے کا فیصلہ
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی ہوم سیریز کے لیے فاسٹ پچز تیار کرنے کا فیصلہ کرلیا، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے دونوں میچز کے لیے فاسٹ بولرز کو مدد دینے والی پچز بنانے کی ہدایت کردی، جبکہ قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں بھی کئی تبدیلیوں کا امکان ہے۔
ٹرائنگولر ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد پاکستانی ٹیم کو اب سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا چیلنج درپیش ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 9 نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہوگا، جبکہ دوسرا میچ 17 نومبر سے لاہور میں کھیلا جائے گا۔
سال 2026 اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم حیران کن طور پر پاکستانی ٹیم رواں سال نومبر میں اپنے ہوم گراؤنڈز پر پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔
بیرون ملک پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ قومی ٹیم کو 3 غیر ملکی سیریز کے مجموعی طور پر 7 میچز میں صرف ایک کامیابی ملی، جو ویسٹ انڈیز میں حاصل ہوئی تھی، جبکہ اس دورے کا آغاز بھی شکست سے ہوا تھا۔
اس سے قبل بنگلادیش میں پاکستان کو دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آخری سیریز میں انگلینڈ نے قومی ٹیم کو 0-3 سے شکست دی۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی کے تھنک ٹینک نے بیرون ملک مسلسل مشکلات کے پیش نظر اب ملک میں جاندار اور معیاری پچز تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ایسی کنڈیشنز میں کھیلنے کا موقع مل سکے۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے سری لنکا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز کے لیے فاسٹ ٹریکس تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ گراؤنڈز مین ایسی پچز بنانے کی کوشش کررہے ہیں جہاں فاسٹ بولرز کو زیادہ مدد مل سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ سری لنکا کے خلاف سہ روزہ میچ کے بعد پی سی بی پیٹرنز الیون سے 2 فاسٹ بولرز کو قومی سکواڈ میں شامل کیا جائے گا، جبکہ محمد عباس اور رضا اللہ کی شمولیت تقریباً یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کی پلیئنگ الیون میں شامل صائم ایوب، عبداللہ شفیق، شان مسعود، محمد عمران اور محمد علی اب ٹیم سے باہر ہوچکے ہیں، جس کے باعث سری لنکا کے خلاف قومی ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔
شان مسعود نے برمنگھم ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 95 رنز بنائے تھے، تاہم ذرائع کے مطابق کوچ کی رائے ہے کہ 37 سالہ بیٹر کی جگہ اب کسی نوجوان کھلاڑی کو موقع دیا جانا چاہیے۔
قومی ٹیم کی اوپننگ جوڑی میں بھی تبدیلی متوقع ہے، جبکہ اذان اویس کے ساتھ عبداللہ فضل کو اوپننگ کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بابر اعظم کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹنگ فارم بحال کرنے کے لیے ڈومیسٹک چار روزہ میچ میں حصہ لیں، اسی وجہ سے بابر اعظم ان دنوں قائداعظم ٹرافی میں شرکت کررہے ہیں۔
دوسری جانب پی سی بی کی جانب سے ڈومیسٹک مقابلوں میں شرکت لازمی قرار دیے جانے کے بعد کئی سٹار کھلاڑی اپنی خواہش کے برخلاف بھی ڈپارٹمنٹل اور ریجنل ٹیموں کی نمائندگی کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان 10 ٹیموں میں نویں نمبر پر موجود ہے، جبکہ اس سے نیچے صرف زمبابوے کی ٹیم ہے۔
اسی طرح ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی گرین کیپس کی پوزیشن انتہائی مایوس کن ہے اور قومی ٹیم 9 ٹیموں میں آخری نمبر پر موجود ہے۔
پی سی بی کا تھنک ٹینک ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی اگلی سائیکل میں قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ابھی سے اقدامات کررہا ہے، جبکہ حکام کو امید ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت سے ٹیم کی مجموعی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔