Pakistan

خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے پیکیج کو حتمی شکل دے رہے ہیں، وزیراعظم

خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے پیکیج کو حتمی شکل دے رہے ہیں، وزیراعظم
۱ منٹ پہلے

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کے فوڈ سبسڈی پروگرام سے اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد ٹوکن کے ذریعے براہ راست مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ فی خاندان اوسطاً 5 افراد کے حساب سے تقریباً ساڑھے 7 کروڑ شہریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ پروگرام پر 28 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں اور یہ دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج کو بھی حتمی شکل دینے کی تصدیق کی ہے۔ 

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فوڈ سبسڈی پروگرام کامیابی اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے اور متعلقہ ادارے اس کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ پروگرام میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سامنے آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول پمپس پر ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے پیٹرول پمپس کو صرف بند نہیں کیا جائے گا بلکہ ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ کارروائی ایسی ہونی چاہیے جو دوسروں کے لیے مثال بنے۔ 

وزیراعظم کے مطابق دہائیوں سے سرگرم مافیا کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب حکومتی معاملات شفافیت کے ساتھ چلائے جائیں گے۔ 

ایل پی جی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس کی درآمد سے مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی۔ 

انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فروخت سے حاصل ہونے والا منافع حکومتی خزانے میں جمع ہوگا اور اس رقم کو عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ 

شہباز شریف کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج کو گزشتہ روز حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ 

انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ہے۔ 

وزیراعظم کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ 

انہوں نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا خوبصورت صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے بہادر عوام کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ 

شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کو بھی دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا ہے، تاہم پوری قوم کی دعاؤں اور سیکیورٹی اداروں کی کوششوں سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔ 

خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر کشیدگی اور عدم استحکام کے باعث قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ 

وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ 2 سے 3 ہفتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ 

اس سلسلے میں فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مختلف دورے کیے، جبکہ ترکیہ کے نمائندے ابراہیم قالن کی تہران میں بھی مثبت بات چیت ہوئی۔ 

ان کے مطابق ان سفارتی رابطوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ساتھ سہ فریقی تعاون کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسم سرما میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت ایل این جی، ایل پی جی اور توانائی کے دیگر ذرائع کی دستیابی یقینی بنانے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاس اور مشاورت جاری ہے۔ 

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گی تاکہ بجلی گھروں اور صنعتی کارخانوں کو ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ بھی کم سے کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ جمعے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان موجود تھا۔ 

تاہم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ذمہ داری کے ساتھ کام کیا اور عام آدمی پر پڑنے والے اضافی مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ 

وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے، علاقائی کشیدگی کم کرنے اور ملک میں امن و امان یقینی بنانے کے لیے حکومتی اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں