Pakistan

ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا، وفاقی وزراء

ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا، وفاقی وزراء
۱ منٹ پہلے

وفاقی وزرا نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کے ون کانسٹیٹیوشن منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے متاثرین کو ان کی رقوم واپس ادا کی جائیں گی، جبکہ وفاقی کابینہ نے منصوبے میں مبینہ فراڈ اور بے ضابطگیوں سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کرلی ہے۔ 

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے میں مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی، جس کی رپورٹ وفاقی کابینہ نے منظور کرلی ہے۔ 

احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ ون کانسٹیٹیوشن منصوبے میں فراڈ ہوا، جبکہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بے ضابطگیوں کے معاملے میں کوتاہی برتی اور متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ 

ان کے مطابق جے آئی ٹی نے عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ فراڈ کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے، جبکہ سی ڈی اے کے افسران کامران لاشاری، فیصل اعوان اور اظہر علی چوہدری کی مبینہ ملی بھگت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مرحوم رائے نواز کھرل کو بھی اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث قرار دیا گیا ہے۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیولپر کو فائدہ پہنچانے کے لیے منصوبے میں بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ 

احسن اقبال کے مطابق جے آئی ٹی نے ون کانسٹیٹیوشن منصوبے کی دوبارہ نیلامی اور عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کے تمام منصوبوں کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس معاملے کو شفاف انداز میں آگے بڑھائے گا اور جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں مبینہ جرائم کی واضح نشاندہی کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون نہیں ہوسکتا۔ آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام آباد میں امیر اور غریب کے درمیان امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے بالاتر نہیں اور یہی قانون کے سامنے مساوات کا تقاضا ہے۔ 

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ ون کانسٹیٹیوشن منصوبہ گزشتہ 20 سال سے جاری رہا اور اس دوران دو مرتبہ اس کے خلاف کارروائی کی گئی، دونوں بار مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اقدامات کیے گئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ افراد کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دعوے ثابت کرنے کا موقع دیا گیا، تاہم 7 سے 8 افراد پیش نہیں ہوئے، جن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی شامل ہیں۔ 

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ تحقیقات میں پیش نہ ہونے والے ان افراد نے آخر اس منصوبے میں فلیٹ کیسے حاصل کیے؟

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں