پاکستان اور برطانیہ کا دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور برطانیہ نے خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے سالانہ دوطرفہ مذاکرات ہوئے، جن میں بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی سے درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسدادِ دہشت گردی ڈاکٹر فریحہ بگٹی نے کی، جبکہ برطانوی وفد کی سربراہی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے ڈائریکٹر تھامس بیری نے کی۔
مذاکرات کے دوران برطانیہ نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقوں نے افغانستان کے اندر اور وہاں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مستحکم اور محفوظ افغانستان کو ناگزیر قرار دیا۔
پاکستان اور برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق معلومات اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے ساتھ سوشل میڈیا کے غلط استعمال، پروپیگنڈے اور نئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے خطرات کا مشترکہ مقابلہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
مذاکرات میں علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے ادارہ جاتی روابط مزید مستحکم کرنے اور انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا اگلا دور 2027 میں لندن میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔