پیراگوئے کا بڑا ڈیجیٹل بینک دیوالیہ،ملک کی نصف آبادی رقم تک رسائی سے محروم
جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں بڑے ڈیجیٹل بینک یوئینو بینک کے مبینہ طور پر دیوالیہ ہونے کے بعد مرکزی بینک نے اس کا کنٹرول سنبھالنے اور معمول کی بینکاری سرگرمیاں بند کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے بینک اکاؤنٹس اور جمع شدہ رقوم تک رسائی سے محروم ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق متاثرہ صارفین کی تعداد پیراگوئے کی بالغ آبادی کے تقریباً 60 فیصد کے برابر ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 65 لاکھ بتائی جاتی ہے، جس کے لحاظ سے یوئینو بینک کے صارفین مجموعی آبادی کا بھی لگ بھگ نصف بنتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیراگوئے کے مرکزی بینک نے 2 نومبر 2026ء کو متفقہ فیصلے کے ذریعے یوئینو بینک کے خلاف خصوصی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مرکزی بینک کے مطابق یوئینو بینک کی مالی حالت شدید متاثر ہوئی تھی اور قانونی تقاضوں کے تحت مطلوبہ سرمائے کا تناسب مقررہ کم از کم معیار کے نصف سے بھی نیچے گر گیا تھا۔
اس صورتحال کے بعد بینک کا انتظام سرکاری حکام کے حوالے کردیا گیا، جبکہ اس کی موبائل ایپ، بینک کارڈز اور دیگر مالی خدمات بھی معطل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بینکاری خدمات کی معطلی کے باعث لاکھوں صارفین فوری طور پر اپنے اکاؤنٹس سے رقم نکلوانے یا دوسرے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے سے قاصر ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یوئینو بینک کے پاس تقریباً 80 کروڑ سے 85 کروڑ امریکی ڈالر کے سرکاری فنڈز بھی موجود تھے، جن میں سے تقریباً 38 کروڑ ڈالر پیراگوئے کے سرکاری پنشن اور صحت کے فنڈ سے متعلق تھے۔
بینک کے خلاف کارروائی کے بعد انفرادی صارفین کے ساتھ سرکاری اداروں کی جمع شدہ رقوم تک رسائی کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس میں فی الحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ متاثرہ صارفین کو اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی کب ملے گی یا خصوصی کارروائی کے دوران جمع شدہ رقوم کے تحفظ اور واپسی کے لیے کیا انتظامات کیے جائیں گے۔