آنند ایل رائے کی ’تیرے عشق میں‘ ناقدین کی تنقید کی زد میں، محبت کی کہانی بوجھل اور غیر مربوط قرار

news-banner

انٹرٹینمنٹ - 29 نومبر 2025

آنند ایل رائے کی نئی فلم ’تیرے عشق میں‘ ریلیز کے بعد ناقدین کی سخت تنقید کا نشانہ بن گئی۔

 

 فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تین گھنٹے طویل محبت کی کہانی ضرورت سے زیادہ پھیلی ہوئی، بوجھل اور غیر مربوط ہے، اور یہاں تک کہ دھنش اور کریتی سینن جیسے مضبوط اداکار بھی اسے سنبھال نہیں سکے۔

 

فلم میں بنارس کا مختصر حصہ شامل ہے جہاں محمد ذیشان ایوب ایک فلسفی پجاری کے کردار میں محبت، موت اور نجات پر گفتگو کرتے ہیں۔

 

 دھنش (شنکر) اور کریتی سینن (مکتی) نے اپنے کرداروں میں شدت لانے کی بھرپور کوشش کی مگر کہانی کی طوالت اور بکھری ہوئی ساخت نے یہ سب ختم کر دیا۔

 

تنقید نگاروں کے مطابق فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کی تحریر ہے، جو مکمل طور پر مرد لکھاریوں ہمانشو شرما اور نیرج یادو کے نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔

 

 فلم میں بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ سخت مزاج اور تشدد پسند مرد عورت کی محبت سے سدھر سکتے ہیں، لیکن یہ خیال غیر حقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

 

کہانی دہلی یونیورسٹی کے ایک غصیلے طالب علم اور ایک اعلیٰ افسر کی بیٹی کے گرد گھومتی ہے جو ثابت کرنا چاہتی ہے کہ تشدد پسند ’الفا میلز‘ کو بدلا جا سکتا ہے۔ تاہم، کرداروں کے تعلقات غیر فطری اور پلاٹ الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

 

واحد قابل تعریف پہلو اے آر رحمان کی موسیقی ہے، جو فلم کے بوجھل مزاج کے باوجود کچھ سہارا دیتی ہے، مگر مجموعی طور پر فلم محبت کی وہ کہانی بننے میں ناکام رہتی ہے جو اپنا اثر چھوڑ سکے۔