تحقیق: شدید ذہنی دباؤ کا ایک واقعہ بھی بار بار بال گرنے کا سبب بن سکتا ہے

news-banner

تازہ ترین - 30 نومبر 2025

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والا شدید ذہنی دباؤ کا ایک ہی واقعہ بالوں کے بار بار گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

 

ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا کہ جب ذہنی دباؤ کے دوران بالوں کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں، تو جسم کا مدافعتی نظام مستقبل میں اسی طرح کے دباؤ کے دوران بالوں کی مزید جڑوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔

 

تحقیق کے مطابق شدید ذہنی دباؤ چوہوں کے ہمدرد اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے، جو "لڑو یا بھاگو" کے ردعمل کے لیے دل کی دھڑکن اور پٹھوں کی طاقت بڑھاتا ہے، اور اس کے بعد مدافعتی نظام کے CD8+ T سیلز کو فعال کرتا ہے جو بالوں کی جڑوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔

 

محققین نے بتایا کہ ابتدائی دباؤ ختم ہونے کے بعد بھی یہ T سیلز دوبارہ سوزش کے دوران بال گرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس طرح، شدید ذہنی دباؤ نہ صرف فوری نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ مستقبل میں اسی ٹشو کو دوبارہ مدافعتی حملے کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

 

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مدافعتی ردعمل جسم کے لیے ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بالوں کی جڑیں قربان کر کے اہم سٹیم سیلز محفوظ رکھے جاتے ہیں تاکہ بعد میں ٹشوز کی دوبارہ تشکیل ممکن ہو سکے۔

 

یہ تحقیق نہ صرف ذہنی دباؤ اور بال گرنے کے تعلق کو واضح کرتی ہے بلکہ مدافعتی نظام کے دماغ، ریڑھ کی ہڈی، ٹائپ ون ذیابیطس اور لیوپس جیسی بیماریوں کے تعلق کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔