دنیا - 09 دسمبر 2025
ایف بی آر کو جولائی تا نومبر 412 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا
کاروبار - 30 نومبر 2025
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ، یعنی جولائی سے نومبر تک، 5 ہزار 143 ارب روپے کے مقررہ ٹارگٹ کے مقابلے میں 412 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔
صرف نومبر کے مہینے میں ایف بی آر نے 896 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا۔
دستاویزات کے مطابق، نظرثانی شدہ ہدف کے تحت جولائی تا نومبر ایف بی آر کو 314 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا رہا۔
نومبر میں اصل ہدف ایک ہزار 35 ارب روپے تھا جس میں 139 ارب روپے کی کمی رہی، جبکہ نظرثانی شدہ 995 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 96 ارب روپے کی کمی سامنے آئی۔
ایف بی آر نے جولائی سے نومبر کے دوران مجموعی طور پر 4730 ارب روپے کی آمدن حاصل کی۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولیاں مقررہ اہداف سے کم رہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جولائی سے نومبر کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 2233 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 1876 ارب روپے، ایف ای ڈی میں 326 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 548 ارب روپے جمع کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق، انکم ٹیکس کا اصل ہدف 2367 ارب روپے، سیلز ٹیکس کا 1925 ارب روپے، ایف ای ڈی کا 332 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی کا اصل ہدف 519 ارب روپے تھا۔
نظرثانی شدہ اہداف میں انکم ٹیکس کا ٹارگٹ 2317 ارب، سیلز ٹیکس کا 1883 ارب، ایف ای ڈی کا 326 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کا 519 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔
صرف نومبر میں انکم ٹیکس کی مد میں 403 ارب روپے، سیلز ٹیکس میں 364 ارب، ایف ای ڈی میں 64 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی میں 108 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ اسی ماہ ان ٹیکسز کے اہداف بالترتیب 439 ارب، 369 ارب، 67 ارب اور 112 ارب روپے تھے۔
ایف بی آر نے جولائی سے نومبر کے دوران مجموعی طور پر 255 ارب روپے اور صرف نومبر میں 48 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کیے۔
دیکھیں

