سری لنکا میں تباہ کن طوفان کے بعد ایمرجنسی نافذ,,رضاکار امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش

news-banner

دنیا - 03 دسمبر 2025

سری لنکا میں آنے والی شدید آفت سے ایک ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد صدر انورا کمارا ڈیسنایکے نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

 

فوج نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں، جبکہ عالمی اداروں اور مختلف ممالک سے امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم پچھلے چند برسوں میں سیاسی اور معاشی بحرانوں سے گزرنے والا یہ ملک طویل بحالی کے مرحلے سے گزرے گا۔

 

سماجی کارکن امدادی کاموں میں مصروف

 

کولمبو کے علاقے ویجریما میں وہی کارکن جو 2022 میں سابق صدر گوتابایا راجپکسے کے خلاف احتجاج کا حصہ تھے، اب ایک کمیونٹی کچن چلا رہے ہیں جہاں سیلاب متاثرین کے لیے کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔

 

تین سال قبل ہونے والا احتجاج بدترین معاشی بحران کی وجہ سے شروع ہوا تھا، جب ایندھن، خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ وہی کارکن اب اپنی سیاسی سرگرمی کو امدادی کاموں میں بدل چکے ہیں۔

 

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سسیندو سہان تھاراکا نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ رضاکار دفتر سے واپس آکر، کچھ ڈیوٹی بدل کر اور کچھ چھٹی لے کر مدد کے لیے پہنچے۔


"ہم نے واقعے کی سنگینی کا احساس ہوتے ہی گروپ کو دوبارہ فعال کر لیا،" وہ کہتے ہیں۔

 

کمیونٹی کچن میں درجنوں رضاکار نیلے ہیئرنیٹس پہن کر متاثرین کے لیے کھانا تیار کرتے ہیں۔ مسٹر تھاراکا کے مطابق یہ کام 2016 کے اُن امدادی سرگرمیوں کا تسلسل ہے، جب ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے 250 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

 

رضاکاروں نے سینکڑوں امدادی درخواستیں اکٹھی کر کے حکام تک پہنچائیں اور کھانا تقسیم کرنے کا بندوبست کیا۔


"ہم نے جو مانگا، کمیونٹی نے اس سے بڑھ کر دیا،" انہوں نے کہا۔

 

آن لائن امدادی مہمات

 

سوشل میڈیا پر صارفین نے ایک ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جو عطیہ دہندگان اور رضاکاروں کی رہنمائی کرتا ہے۔

 

 ایک اور ویب سائٹ عطیہ دہندگان کو مختلف کیمپوں کی ضرورت کے مطابق مدد پہنچانے میں معاون ہے۔

 

نجی کمپنیاں ڈونیشن ڈرائیوز چلا رہی ہیں، جبکہ مقامی ٹی وی چینلز بنیادی اشیاء جمع کر رہے ہیں۔

 

قدرتی آفت کے بعد سیاسی گرما گرمی

 

صدر ڈیسنایکے کو طوفان کی تیاری میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی ہے کہ سیاسی اختلافات بھلا کر ملک کی تعمیر نو میں ساتھ دیں۔

 

اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت نے موسم کی سنگین وارننگز کو نظرانداز کیا، جس سے تباہی بڑھی۔ پیر کے روز اپوزیشن ارکان نے اسمبلی سے واک آؤٹ کر کے احتجاج کیا اور کہا کہ حکومت آفت پر بحث محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

قوم متحد ہو کر بحالی میں مصروف

 

سیاسی اختلافات کے باوجود، متاثرہ علاقوں میں لوگ متحد ہو کر حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

مسٹر تھاراکا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا:


"بالآخر کسی کی جان بچانے کی خوشی ساری تھکن مٹا دیتی ہے۔ آفتیں نئی نہیں—لیکن ہمارے دلوں کی ہمدردی ہمیشہ تباہی سے زیادہ بڑی ہوتی ہے۔"