این ایچ ایس کی اپیل: ہلکی پھلکی بیماریوں کے لیے ایمرجنسی کا رخ نہ کریں

news-banner

تازہ ترین - 04 دسمبر 2025

این ایچ ایس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ معمولی بیماریوں کے ساتھ ایمرجنسی وارڈز (A&E) کا رخ نہ کریں، کیونکہ گزشتہ سردیوں میں ہزاروں افراد ہچکی، گلے کی خراش اور ingrowing ناخن جیسی معمولی تکالیف کے ساتھ ہسپتال پہنچے۔

 

این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق نومبر سے فروری کے دوران دو لاکھ سے زیادہ مریض ایسے معمولی مسائل کے ساتھ A&E پہنچے جو کہیں اور با آسانی حل ہوسکتے تھے۔ یہ تعداد مجموعی آمد کا 2 فیصد سے زیادہ بنتی ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس پر بوجھ بڑھ گیا۔

 

عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ معمولی علامات کی صورت میں فارماسسٹ، جی پی یا NHS 111 سے رابطہ کریں، کیونکہ بہت سے مسائل گھر پر بھی سنبھالے جا سکتے ہیں۔

 

1 نومبر 2024 سے 28 فروری 2025 کے دوران درج ہونے والی تفصیلات یہ ہیں:

 

  • 6,382 کیس ناک بند ہونے کے
  •  
  • 83,705 کیس کان درد کے
  •  
  • 96,998 کیس گلے کی خراش کے
  •  
  • 3,890 ingrowing ناخن
  •  
  • 8,669 جلد کی خارش کے کیس
  •  
  • 384 کیس ہچکی کے
  •  

تحقیق کے مطابق ایمرجنسی میں غیرضروری آمد کی ایک بڑی وجہ جی پی تک بروقت رسائی میں مشکلات ہیں، کیونکہ 20 فیصد سے زائد مریض اپنے جی پی تک وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔

 

این ایچ ایس نے فارمیسی کے ذریعے عام بیماریوں کے لیے دوا دینے کی نئی سہولیات متعارف کروائی ہیں اور "24 Hours Not In A&E" کے عنوان سے سوشل میڈیا مہم بھی شروع کی ہے۔

 

این ایچ ایس کے ارجنٹ کیئر ڈائریکٹر جولیئن ریڈ ہیڈ نے کہا کہ A&E صرف جان لیوا یا سنگین حالات کے لیے استعمال کی جائے۔ جی پی ڈاکٹر ایلی کینن کے مطابق جی پی ویب سائٹس کے ذریعے رابطہ فون کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان ہے۔

 

اگرچہ انگلینڈ کی 98% جی پی پریکٹسز اب آن لائن بکنگ فراہم کرتی ہیں، مگر برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ڈاکٹروں پر ڈیجیٹل سوالات کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

 

یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اس موسمِ سرما میں فلو کی شرح بڑھ رہی ہے اور جونیئر ڈاکٹروں کی پانچ روزہ ہڑتال بھی 17 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے۔