کھیل - 13 مارچ 2026
والدین کے جھگڑے بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، ماہر کا انتباہ
تازہ ترین - 04 دسمبر 2025
بچوں کی دنیا والدین کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوتی اور یہ ان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ گھر میں سکون اور ہم آہنگی ہو۔
والدین کے مسلسل جھگڑے اور چپقلش بچوں کی نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی صحت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام ”گڈ مارننگ پاکستان“ میں سائیکو تھراپسٹ صائمہ ہاشم نے والدین کے جھگڑوں کے بچوں پر اثرات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے ماحول میں رہنے والے بچے غصہ، چڑچڑا پن، خوف، بے چینی، نیند کی خرابی اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
صائمہ ہاشم کا کہنا تھا کہ والدین اکثر شدید جھگڑوں کے بعد اپنا غصہ بچوں پر نکال دیتے ہیں، جس سے چھوٹے بچوں میں تناؤ اور بڑے بچوں میں اداسی، ڈپریشن اور علیحدگی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
غصہ کنٹرول کرنے کے لیے وہ ایک آسان سانس لینے کی مشق ”فور-ٹو-سکس (426)” تجویز کرتی ہیں:
- 4 سیکنڈ کے لیے سانس اندر لیں
- 2 سیکنڈ کے لیے سانس روکیں
- 6 سیکنڈ میں سانس باہر نکالیں
اس مشق کو کم از کم تین بار دہرائیں تاکہ دماغ میں تناؤ کم ہو سکے۔
مزید برآں، والدین کو مشورہ دیا گیا کہ اپنے غصے کے بارے میں کسی دوست سے بات کریں اور اگر بچے پر غصہ نکال دیا ہے تو محبت سے معافی مانگیں، یہ یقین دلاتے ہوئے کہ یہ ان کی غلطی نہیں بلکہ والدین کی ہے۔ اس سے بچے پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
دیکھیں

