کھیل - 13 مارچ 2026
"بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کیسز میں ایک سال کے دوران خطرناک اضافہ"
تازہ ترین - 04 دسمبر 2025
بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد ایک سال کے دوران تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
سید کنٹرول پروگرام کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں مریضوں کی تعداد 2,851 تھی جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 3,303 ہوگئی۔ اس عرصے میں 452 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 452 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔
مرد مریضوں کی تعداد 2,075 سے بڑھ کر 2,362 ہوگئی جبکہ خواتین کیسز 600 سے بڑھ کر 707 تک پہنچ گئے۔ صوبے میں خواجہ سراؤں کے 90 افراد بھی رجسٹرڈ مریضوں میں شامل ہیں۔ سب سے زیادہ کیسز کوئٹہ میں ریکارڈ ہوئے جہاں 2,164 مریض موجود ہیں۔ تربت میں 368، حب میں 158، نصیر آباد میں 66 اور لورالائی میں 96 کیسز رپورٹ ہوئے، جو ثابت کرتا ہے کہ مرض صرف شہروں تک محدود نہیں رہا۔
ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ہاشم مینگل کا کہنا ہے کہ ایڈز کے تیزی سے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ منشیات کے انجیکشن کے ذریعے استعمال اور آلودہ سرنجوں کا شیئر کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر محفوظ جنسی تعلقات، آلودہ آلات اور ماں سے بچے کو وائرس کی منتقلی بھی پھیلاؤ کی اہم وجوہات ہیں۔
ڈاکٹر مینگل نے کہا کہ اگرچہ کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، لیکن یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ صوبے میں ٹیسٹنگ اور نگرانی بہتر ہوئی ہے اور لوگ زیادہ تعداد میں آگے آ رہے ہیں۔
صوبائی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر سحرین نوشیروانی کے مطابق ایڈز ایک قابلِ کنٹرول مرض ہے، مگر بلوچستان میں اس سے متعلق غلط فہمیوں اور سماجی بدنامی کے خوف کے باعث لوگ ٹیسٹ اور علاج سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مریض باقاعدگی سے ادویات لیتے رہیں تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق کوئٹہ، تربت اور دیگر اضلاع میں ایچ آئی وی تھراپی مراکز فعال ہیں جو مفت علاج، ٹیسٹنگ اور مشاورت فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز پر قابو پانے کے لیے آگاہی مہمات، کمیونٹی لیول سرگرمیوں اور حکومت، سول سوسائٹی، مقامی رہنماؤں اور برادریوں کے مشترکہ کردار کی فوری ضرورت ہے۔
دیکھیں

