جنوبی کوریا میں نیا موبائل ایپ: اسٹاکنگ کے متاثرین اب اپنے اسٹاکرز کی لوکیشن براہِ راست دیکھ سکیں گے

news-banner

تازہ ترین - 05 دسمبر 2025

جنوبی کوریا نے اسٹاکنگ کے متاثرین کی حفاظت کے لیے ایک نیا موبائل ایپ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی مدد سے متاثرہ افراد اپنے اسٹاکرز کی حقیقی وقت میں لوکیشن دیکھ سکیں گے اگر وہ قریب موجود ہوں۔ یہ اقدام بدھ کے روز وزارتِ انصاف کی جانب سے الیکٹرانک مانیٹرنگ قانون میں ترمیم کے حصے کے طور پر سامنے آیا۔

 

ملک میں حالیہ برسوں میں اسٹاکنگ سے متعلق کئی سنگین واقعات منظر عام پر آنے کے بعد یہ مسئلہ عوامی تشویش کا سبب بن چکا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت متاثرین کو صرف ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے آگاہ کیا جاتا تھا کہ ان کا اسٹاکر قریب ہے، لیکن اس میں درست مقام ظاہر نہیں کیا جاتا تھا، جس کے باعث اُن کے لیے سمت کا تعین مشکل رہتا تھا۔

 

ترمیم کے بعد متاثرین اپنے اسمارٹ فون پر نقشے کے ذریعے اسٹاکر کی درست لوکیشن دیکھ سکیں گے، جس سے وہ فوراً محفوظ مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکام اسٹاکرز کی نگرانی الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے کرتے ہیں۔

 

وزارتِ انصاف کے مطابق وہ اس نظام کو قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن کے ساتھ بھی منسلک کرنے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ پولیس فوری طور پر متاثرہ شخص تک پہنچ سکے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ انضمام اگلے سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔

 

ناقدین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں بڑھتی ہوئی اسٹاکنگ دراصل خواتین کے خلاف وسیع تر تشدد کا حصہ ہے۔ متعدد خواتین خفیہ کیمروں سے ریکارڈنگ، دھمکیوں اور ہراسانی کا بھی نشانہ بنی ہیں۔

 

2022 میں ایک نوجوان خاتون کے قتل کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا، جسے اس کے سابق ساتھی نے کئی سال اسٹاک کرنے کے بعد قتل کیا تھا۔

 

 متاثرہ خاتون نے اسے پہلے ہی پولیس کو رپورٹ کیا تھا، مگر اسے "کم خطرہ" سمجھ کر حراست میں نہیں لیا گیا۔

 

جنوبی کوریا نے 2021 میں اینٹی اسٹاکنگ قانون متعارف کرایا تھا، جس کے تحت تین سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

 

 2023 میں قانون میں مزید ترمیم کی گئی جس کے بعد اسٹاکرز کے خلاف مقدمات درج کرنے میں آسانی ہوئی۔

 

وزارتِ انصاف کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں اسٹاکنگ کے 7,600 کیس رپورٹ ہوئے تھے، جو گزشتہ سال بڑھ کر 13,000 سے زائد ہو گئے۔