کھیل - 13 مارچ 2026
ڈبلیو ایچ او رپورٹ: ملیریا اب بھی عالمی صحت کے لیے بڑا خطرہ، ادویات کی مزاحمت اور وسائل کی کمی تشویشناک
تازہ ترین - 05 دسمبر 2025
ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملیریا، جو مچھر کے ذریعے منتقل ہونے والی ایک قابل علاج بیماری ہے، اب بھی عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنا ہوا ہے اور ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے لیتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر بچوں اور حاملہ خواتین میں ہیں، جن کی اکثریت ذیلی صحارا افریقہ میں رہتی ہے۔
گزشتہ 25 برسوں میں انسداد ملیریا اقدامات سے تقریباً 14 لاکھ جانیں بچائی گئی ہیں اور 47 ممالک کو ملیریا سے آزاد قرار دیا گیا ہے۔
تاہم، صرف 2024 میں 28 کروڑ سے زائد کیسز اور چھ لاکھ اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں 95 فیصد کیسز افریقہ کے 11 ممالک سے تھے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت، خاص طور پر آرٹیمیسنن کی دواؤں کے خلاف، ملیریا کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
آٹھ ممالک میں دوا کی مزاحمت کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کسی ایک دوا پر انحصار کم کیا جائے اور بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔
افریقہ میں جاری تنازعات، موسمیاتی عدم مساوات اور کمزور صحت کے ڈھانچے ملیریا سے نمٹنے کی کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
2024 میں ملیریا کے خلاف صرف 3.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، جو ڈبلیو ایچ او کے ہدف کے نصف سے بھی کم ہے۔
ترقیاتی امداد میں کمی نے بھی انسداد ملیریا اقدامات کو متاثر کیا ہے۔
میڈیسن فار ملیریا وینچر کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارٹن فچیٹ نے کہا کہ نئی ادویات کی تیاری اور اختراع میں جرات مندانہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی اداروں، محققین، صنعتوں، معالجین، سول سوسائٹی اور امداد فراہم کرنے والوں کو مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملیریا کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
دیکھیں

