تازہ ترین - 02 جنوری 2026
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج: سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کی جھڑپوں میں 6 ہلاکتیں
دنیا - 02 جنوری 2026
ایران کے مختلف شہروں میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حالیہ مظاہروں کے آغاز کے بعد پہلی ہلاکت خیز جھڑپیں ہیں۔
مغربی ایران کے شہر لردگان میں دو شہری سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ صوبہ لورستان کے شہر کوہدشت میں بسیج فورس کا ایک 21 سالہ اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے اہلکار کی ہلاکت کو مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ لردگان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، اور کوہدشت میں ہلاک ہونے والا شخص مظاہرین میں شامل نوجوان تھا۔
ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
احتجاجات کا آغاز تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے ہوا، جو مہنگائی، معاشی جمود اور ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تھا، اور بعد ازاں یہ مظاہرے دیگر بڑے شہروں اور یونیورسٹیوں تک پھیل گئے۔
ایرانی معیشت پر مغربی پابندیوں کا دباؤ شدید ہے، اور گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زائد قدر کھو چکا ہے۔
دسمبر میں مہنگائی کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 52 فیصد تک پہنچ گئی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیا اور حکومت پر معاشی صورتحال بہتر بنانے پر زور دیا، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
دیکھیں

