تازہ ترین - 05 جنوری 2026
وینزویلا بحران کے تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کا لاطینی امریکی رہنماؤں کو سخت انتباہ
دنیا - 04 جنوری 2026
وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں امریکی کارروائیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسی پس منظر میں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت اور غیر معمولی انتباہ موصول ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر محتاط رہیں، کیونکہ کولمبیا سے منشیات امریکہ میں داخل ہو رہی ہیں۔
صدر پیٹرو نے ردعمل میں کہا کہ امریکا کی وینزویلا میں کارروائی خطے کی خودمختاری پر حملہ ہے اور ایسے اقدامات انسانی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔
وہ پہلے بھی کیریبین میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر تنقید کر چکے ہیں، جنہیں امریکا منشیات کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا میں منشیات کی لیبارٹریوں پر حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جسے صدر پیٹرو ممکنہ جارحیت اور مداخلت کا اشارہ قرار دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے وسیع تر لاطینی امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی نصف کرہ میں امریکی بالادستی کو چیلنج نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک چاہتا ہے اور وینزویلا کے توانائی کے ذخائر امریکی مفاد کے لیے اہم ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی مغرب نواز نوبل انعام یافتہ اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کی مقبولیت اور اندرونی حمایت پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ملک کی قیادت ان کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا کہ کیوبا مستقبل میں امریکی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور کیوبا کے تعلقات میں مداخلت اور کشیدگی کی تاریخ رہی ہے، جس میں 1961 کا بے آف پگز حملہ بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نے میکسیکو کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ صدر کلاڈیا شین بام اچھی خاتون ہیں، مگر منشیات کے کارٹلز ملک پر اثر انداز ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کئی بار مدد کی پیشکش کر چکا ہے، مگر میکسیکو کی قیادت نے انکار کیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی ایران میں ممکنہ مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں۔
دیکھیں

