تازہ ترین - 05 جنوری 2026
افغان جنگ پر امریکا کے 763 ارب ڈالر خرچ، انسپیکٹر جنرل کی حتمی رپورٹ جاری
دنیا - 04 جنوری 2026
امریکی انسپیکٹر جنرل نے افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری جنگ اور تعمیرِ نو سے متعلق حتمی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ پر مجموعی طور پر 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ریاستی ادارے کمزور ہوئے اور حکومتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2002 سے 2021 کے دوران امریکا نے افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
یہ اخراجات یورپ کے مارشل پلان سے بھی زیادہ تھے، تاہم افغان حکومتوں میں کرپشن تعمیرِ نو کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی۔
افغانستان میں جنگی کارروائیوں پر 763 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔
بھاری اخراجات کے باوجود غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہو سکا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے منتشر ہو گئیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ افغان سکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود تھے، ایندھن کی بڑے پیمانے پر چوری ہوتی رہی، جبکہ فورسز کو گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات، ہتھیار اور 162 طیارے فراہم کیے گئے، جو امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ہی چھوڑ دیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، مگر انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود کوئی مؤثر نتائج سامنے نہ آئے، جبکہ اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے بعد بھی صورتحال مایوس کن رہی۔
افغان جنگ کے دوران 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار 700 زخمی ہوئے۔
امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکا منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔
سقوطِ کابل کے بعد امریکا نے چار سالوں میں طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں 120 ملین ڈالر شامل تھے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی انخلا کے بعد عالمی عطیہ دہندگان نے اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے 8.1 ارب ڈالر فراہم کیے۔
افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے فعال ہیں، جبکہ طالبان حکومت امداد پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔
دیکھیں

