پاکستان میں موبائل بینکنگ کا عروج: 12 کروڑ صارفین، ڈیجیٹل لین دین 337 کھرب روپے تک پہنچ گئے

news-banner

کاروبار - 11 جنوری 2026

کراچی: چند سال قبل پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، تاہم کووڈ-19 اور عالمی اداروں بالخصوص بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی معاونت سے ملک میں جدید بینکاری نظام تیزی سے فروغ پا گیا ہے۔

 

 آج پاکستان میں 12 کروڑ سے زائد صارفین ذاتی اور تجارتی لین دین کے لیے موبائل بینکنگ ایپس استعمال کر رہے ہیں۔

 

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی تک کمرشل بینکوں کے 2 کروڑ 58 لاکھ صارفین موبائل بینکنگ استعمال کر رہے تھے، جبکہ ستمبر 2025 تک برانچ لیس بینکنگ کے موبائل ایپس کے صارفین کی تعداد 8 کروڑ 79 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں فن ٹیک اداروں کے صارفین کی تعداد 62 لاکھ 70 ہزار ریکارڈ کی گئی۔

 

موجودہ وقت میں ملک میں 34 کمرشل بینک، 14 برانچ لیس بینکنگ ادارے اور 6 فن ٹیک الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز کام کر رہی ہیں۔

 

 صارفین موبائل ایپس کے ذریعے رقم کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، ٹکٹ بکنگ، آن لائن خریداری، ڈیجیٹل قرضے اور موبائل ٹاپ اپ سمیت دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

 

سافٹ ویئر انجینئر عبداللہ طارق کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجہ اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال اور بینکوں کی موبائل ایپس میں فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ سسٹمز پر بھاری سرمایہ کاری ہے، جس سے صارفین کا تجربہ بہتر ہوا ہے۔

 

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران موبائل بینکنگ کے ذریعے 2 ارب لین دین ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 337 کھرب روپے رہی، جو ڈیجیٹل چینلز کے کل لین دین کا 81 فیصد بنتی ہے۔

 

بینکاری اور مالیاتی ماہر ابراہیم امین کے مطابق کیو آر کوڈ ادائیگی اور راست پیمنٹ سسٹم نے ڈیجیٹل لین دین کو آسان اور بلا معاوضہ بنا دیا ہے، جس سے نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

 

ان کے بقول نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف صارفین موبائل بینکنگ کو ترجیح دے رہے ہیں، تاہم بینکوں کو سیکیورٹی فیچرز بہتر بنانے اور صارفین کو آن لائن فراڈ سے بچانے کی آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔