دنیا - 19 جنوری 2026
برآمدات میں کمی: 150 ٹیکسٹائل ملز اور 400 کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال
کاروبار - 19 جنوری 2026
کراچی: درآمدی سطح پر نرم پالیسیوں کے باعث درآمدات میں اضافہ اور برآمدی مصنوعات کی لاگت میں اضافہ ہونے سے پاکستان کی برآمدی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں، جس کے نتیجے میں 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز اور 400 سے زائد کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہو گئی ہیں۔
اس صورتحال سے مقامی کاٹن انڈسٹری کی پوری چین متاثر ہو گئی ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم، احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی، گیس اور مارک اپ کی بلند شرح، بھاری ٹیکسز، اور وفاقی و صوبائی محکموں کی مداخلت نے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
اس وجہ سے پاکستانی کاٹن مصنوعات بیرون ملک مسابقت نہیں رکھتیں، جس سے برآمدات میں تسلسل کے ساتھ کمی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاٹن انڈسٹری کی بحالی کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملکی معیشت "کومہ" میں جانے کے خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
احسان الحق نے تجویز دی کہ حکومتیں بے نظیر انکم سپورٹ اور رمضان پیکج کے بجائے صنعتوں کی بحالی کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کروائیں، تاکہ معیشت مضبوط ہو اور بیروزگاری اور غربت کم ہو سکے۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق، 15 جنوری 2026 تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 54 لاکھ 97 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 7 ہزار گانٹھ زیادہ ہے۔
پنجاب میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور 25 لاکھ 86 ہزار گانٹھیں منتقل ہوئیں، جبکہ سندھ میں 4 فیصد اضافے کے ساتھ 29 لاکھ 11 ہزار گانٹھیں پہنچی ہیں۔
دیکھیں

