تازہ ترین - 10 فروری 2026
تھائیرائیڈ کینسر کے خطرے کو بڑھانے والے اہم عوامل
تازہ ترین - 26 جنوری 2026
دنیا بھر میں تھائیرائیڈ کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ جدید تشخیصی ٹیسٹس، بہتر اسکریننگ اور عوامی آگاہی ہے، نہ کہ بیماری کی شدت میں اضافہ۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ بروقت تشخیص کی صورت میں تھائیرائیڈ کینسر مکمل طور پر قابلِ علاج ہے۔
تھائیرائیڈ ایک چھوٹا تتلی کی شکل کا غدود ہے جو گردن کے اگلے حصے میں موجود ہوتا ہے اور جسم کے میٹابولزم، دل کی دھڑکن اور درجۂ حرارت کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس کے خلیات میں غیر معمولی افزائش کینسر کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص سے مریض معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکتا ہے۔
ماہرین نے تھائیرائیڈ کینسر کے سات بڑے خطرے کے عوامل کی نشاندہی کی ہے:
- ماضی میں ریڈی ایشن کا سامنا:
بچپن میں سر، گردن یا سینے پر ریڈی ایشن لینا سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر کسی اور بیماری کے علاج کے دوران۔- خاندانی تاریخ اور جینیاتی بیماریاں:
خاندان میں تھائیرائیڈ کینسر کی موجودگی یا موروثی بیماریاں خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔- خواتین اور ہارمونل عوامل:
یہ بیماری مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے، خاص طور پر 30 سے 60 سال کی عمر میں۔- آئیوڈین کی کمی:
طویل عرصے تک آئیوڈین کی کمی تھائیرائیڈ کے مسائل اور کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، اسی لیے آئیوڈائزڈ نمک کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔- پہلے سے موجود تھائیرائیڈ گلٹیاں:
گردن میں موجود پرانی یا بڑھتی ہوئی گلٹی کا معائنہ ضروری ہے کیونکہ کچھ گلٹیاں کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔- موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی:
موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور غیر توازن غذا اس بیماری کے خطرے سے منسلک ہیں۔- عمر اور ماحولیاتی اثرات:
یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، تاہم نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو بھی ایک ممکنہ وجہ سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر گردن میں نئی یا بڑھتی ہوئی گلٹی، آواز میں مسلسل بھاری پن، یا نگلنے اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق آگاہی اور بروقت تشخیص ہی تھائیرائیڈ کینسر سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔
دیکھیں

