دو دن کے رویے پر شدید مذمت اور غصے کا اظہار: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی

news-banner

پاکستان - 30 جنوری 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ دو دنوں میں پیش آنے والے حالات پر شدید مذمت اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

 

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دو راتوں سے سڑکوں پر رکھا گیا، وہ رات تین بجے تک اڈیالہ جیل میں رہے اور صبح دس بجے سے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کے مقبول ترین رہنما ہیں اور ان کی صحت کے معاملے میں غفلت برتی گئی۔ 

 

ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ایسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے مرض سے متعلق ماہر ڈاکٹر موجود نہیں تھے۔ 

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد اور مکالمے پر یقین رکھتی ہے، لیکن اگر تمام راستے بند کیے گئے تو پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کی ملاقات سے متعلق جواب نفی میں ملا ہے اور اب پارٹی آئندہ لائحہ عمل سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں طے کرے گی۔

 

اس سے قبل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ صبح سے سپریم کورٹ کے باہر موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی صحت سے بڑھ کر کوئی معاملہ نہیں۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ دن بھر کی کوششوں کے بعد میڈیکل رپورٹس فراہم کرنے اور ذاتی معالجین کی رسائی پر یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا ختم کر دیا۔