ایران کے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر حملے، عراق میں جنگجوؤں نے امریکی طیارہ مار گرایا

news-banner

دنیا - 13 مارچ 2026

تہران: نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔

 

 ایرانی بمباری کے نتیجے میں تل ابیب کے مرکزی علاقوں اور امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کم از کم 200 اسرائیلی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

 ادھر عراق میں امریکی طیارہ گرنے سے امریکا کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔

 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر شدید افراتفری دیکھنے میں آئی۔

 

 ایئرپورٹ پر موجود مسافروں اور عملے کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ بعض افراد نے کاؤنٹر پر موجود سامان بھی پھینکا۔

 

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے مزید 8 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 

 سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ ڈرون وسطی اور مشرقی علاقوں کے ساتھ ساتھ ریاض کے مغرب اور الخرج کے قریب مار گرائے گئے۔

 

 سعودی حکام کے مطابق مختلف حملوں کے دوران اب تک مجموعی طور پر 22 ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔

 

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے شہر بروجرد میں پولیس ہیڈ کوارٹر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ تہران میں بسیج فورس کے اہلکاروں اور دیگر فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

 

اسرائیل کا کہنا ہے کہ تہران میں ایک ایسے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا جہاں مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں جاری تھیں۔

 

 دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور پلانٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس سے آئی اے ای اے کی نگرانی کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

 

دبئی کے وسطی علاقے میں فضائی دفاعی کارروائی کے دوران میزائل یا ڈرون کا ملبہ ایک عمارت پر گر گیا جس سے عمارت کے اگلے حصے کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔

 

جنوبی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق تھاڈ دفاعی نظام کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں نے سیئول کے جنوب میں واقع اوسان ایئر بیس سے دفاعی ساز و سامان منتقل کیا۔

 

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بھی میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

 

ادھر اسرائیلی فورسز کی لبنان پر بمباری میں مزید 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ 2 مارچ سے جاری حملوں میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 687 ہو چکی ہے جن میں 90 سے زائد بچے شامل ہیں۔

 

 اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ساتھ ایران کے مختلف شہروں پر بھی نئے حملے شروع کیے ہیں جہاں تہران سمیت دیگر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 

عراق کے علاقے مخمور میں پیشمرگہ بیس پر ڈرون حملے میں کئی فرانسیسی فوجی زخمی ہوئے جبکہ بعد ازاں ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو گئی۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس حملے میں فرانسیسی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

 

 

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ کے علاقے مینا سلمان میں قائم امریکی بحری اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

 

 حملوں میں اینٹی ڈرون دفاعی نظام، ڈرون اسٹوریج مراکز، مرمت کی سہولیات اور فیول ٹینکس کو نشانہ بنایا گیا۔

 

 ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

دوسری جانب عراق میں امریکی طیارہ گرنے کے بعد ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایندھن فراہم کرنے والا امریکی طیارہ عراقی مزاحمتی فورسز نے مار گرایا۔

 

 طیارے میں سوار تمام اہلکار ہلاک ہوگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی مغربی عراق میں سی 135 طیارہ گرنے کی تصدیق کی ہے جبکہ دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

 

اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف مزید وسیع حملے شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر اور جوہری پروگرام سے متعلق اہم مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

 تہران کے قریب طالقان میں واقع ایک سائٹ کو بھی جنگی طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

 

 ان میں 200 بچے ایران، 91 لبنان، 4 اسرائیل اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔