بلوچستان: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، بی ایل اے کے حملے ناکام، کئی دہشت گرد ہلاک

news-banner

پاکستان - 31 جنوری 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں غیر ملکی حمایت یافتہ بی ایل اے سے منسلک دہشت گرد نیٹ ورکس نے متعدد ناقص منصوبہ بندی والے حملے کیے۔

 

 پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کئی دہشت گرد ہلاک کیے اور چند گھنٹوں میں صورتحال پر مکمل قابو پا لیا۔

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے “فتنۂ ہندوستان” نامی نیٹ ورک نے کیے، جو بی ایل اے کی غیر ملکی حمایت یافتہ شاخ ہے۔

 

 پروپیگنڈا نیٹ ورکس اور بھارتی میڈیا کے دعوؤں کے برعکس یہ حملے مکمل ناکام ہوئے، اور فورسز نے ان کا "ہیروف 2.0" منصوبہ ناکام بنا دیا۔

 

  • سریاب روڈ، کوئٹہ میں دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پولیس کی فوری جوابی فائرنگ اور فرنٹیئر کور کی کارروائی کے نتیجے میں 4 دہشت گرد ہلاک اور علاقہ کلیئر کیا گیا۔
  •  
  • نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ ناکام بنایا گیا، حملہ آوروں کو فرار ہونا پڑا۔
  •  
  • دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر دھماکوں کے باوجود فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال قابو میں رکھی۔
  •  
  • قلات میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز پر حملے ناکام ہوئے، حملہ آور بھاری نقصان کے بعد فرار ہوئے۔
  •  
  • پسنی اور گوادر میں شہری مقامات پر حملے ناکام بنائے گئے۔
  •  
  • بلوچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں بیک وقت بم حملے اور فائرنگ ناکام بنائی گئی۔
  •  

سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان میں مجموعی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، صرف چند اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور کسی سٹریٹجک تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔

 

یہ حملے حالیہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد کیے گئے، جن میں 50 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔ 

 

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے دہشت گردوں کی ناکامی کا ازالہ کرنے کی ناکام کوشش تھیں۔

 

یہ حملے بشیر زیب بلوچ، اللہ نذر اور جلا وطن حربیار مری کی ہدایت پر کیے گئے، جو بیرونِ ملک محفوظ ہیں۔

 

 بی ایل اے اور بی ایل اے ایف کالعدم تنظیمیں ہیں اور امریکہ کی طرف سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کی قیادت محفوظ زندگی گزار رہی ہے، جبکہ مقامی نوجوان خطرناک آپریشنز میں استعمال ہو رہے ہیں، جس سے انہیں ہلاکتوں کا سامنا ہے۔

 

 سکیورٹی حکام نے عوام کی حفاظت اور غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم دہرا دیا۔