کائنات کے ابتدائی دور میں بننے والا غیر متوقع کہکشانی جھرمٹ دریافت

news-banner

تازہ ترین - 01 فروری 2026

ہیوسٹن (ویب ڈیسک): ناسا کی جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور چاندرا ایکس رے آبزرویٹری سے حاصل ہونے والے تازہ مشاہدات نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے اور کائنات کے آغاز سے متعلق قائم شدہ نظریات پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عظیم دھماکے (بگ بینگ) کے بعد کائنات نے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کی اور کہکشائیں و بڑی کائناتی ساختیں توقع سے بہت پہلے وجود میں آ گئیں۔

 

 یہ دریافت کائنات کی پیدائش اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق بنیادی سوالات کو دوبارہ مرکزِ بحث بنا رہی ہے۔

 

مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ کہکشاؤں کا ایک جھرمٹ بگ بینگ کے فوراً بعد اس وقت سے کہیں پہلے تشکیل پا گیا، جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔ 

 

محققین نے ایک ابھرتے ہوئے کہکشانی مجموعے کی نشاندہی کی ہے جس میں کم از کم 66 ممکنہ کہکشائیں شامل ہیں اور اس کی مجموعی کمیت تقریباً 20 کھرب سورجوں کے برابر ہے۔

 

یہ جھرمٹ بگ بینگ کے تقریباً ایک ارب سال بعد کے دور سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال مانی جاتی ہے۔ 

 

کہکشانی عناقید کائنات کی سب سے بڑی ساختیں سمجھی جاتی ہیں اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ابتدائی کائنات میں ان کی تشکیل کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے۔

 

ہارورڈ اور سمتھ سونین سینٹر برائے فلکی طبیعیات کے ماہرِ فلکیات آکوش بوگدان، جو نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مرکزی مصنف ہیں، کے مطابق کہکشانی جھرمٹ دراصل سیکڑوں یا ہزاروں کہکشاؤں کا مجموعہ ہوتا ہے جو تاریک مادّے کے ذریعے آپس میں بندھے ہوتے ہیں اور ایک نہایت گرم گیس کے ہالے میں موجود ہوتے ہیں۔

 

تاریک مادّہ روشنی خارج یا منعکس نہیں کرتا اور کائنات کے کل مادّے کا تقریباً 85 فیصد حصہ تشکیل دیتا ہے۔ 

 

اس کی موجودگی کا اندازہ اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے لگایا جاتا ہے، جو کہکشانی جھرمٹوں کو ایک ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔

 

سائنسدانوں کے لیے یہ بات غیر متوقع تھی کہ اتنی ابتدائی عمر میں، جب کائنات اپنی موجودہ عمر کا صرف 7 فیصد تھی، ایک اتنا منظم اور پختہ کہکشانی جھرمٹ وجود میں آ سکتا ہے۔ 

 

محققین نے اس ساخت کو ابتدائی کہکشانی عنقود (Proto-Cluster) کا نام دیا ہے، جو پہلے سے موجود سائنسی ماڈلز کو چیلنج کرتا ہے۔