پانی میں نمک ہائی بلڈ پریشر کا خاموش سبب بن گیا: تحقیق

news-banner

تازہ ترین - 03 فروری 2026

فلوریڈا: فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم یا نمک ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد میں۔


محققین نے کہا کہ ان کا مقصد لوگوں کو ڈرانا نہیں بلکہ ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض پیدا کرنے میں کردار ادا کر رہا ہے۔


تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک کے 74 ہزار افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔

 

 اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ زیادہ نمک والا پانی پیتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔


نتائج کے مطابق ایسے پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور یہ خطرہ ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے۔

 

 دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد افراد ساحلی یا ساحلی علاقوں کے قریب رہتے ہیں، جہاں زیر زمین پانی کا نمکین ہونا عام ہے۔