ماہرین کا کہنا ہے: پاکستان کو نپاہ وائرس کا کوئی فوری خطرہ نہیں

news-banner

تازہ ترین - 05 فروری 2026

اسلام آباد: ماہرین متعدی امراض نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان میں موجود چمگادڑوں کے باوجود نپاہ وائرس سے کوئی براہِ راست خطرہ موجود نہیں ہے۔

 

آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں نپاہ وائرس کے حوالے سے گول میز کانفرنس میں ایسوسی ایٹ چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فیصل محمود اور سیکشن ہیڈ انفیکشن ڈیزیز ڈاکٹر نوشین ناصر نے دنیا میں وائرس کی موجودہ صورتحال، پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات اور احتیاطی تدابیر پر تفصیلی بریفنگ دی۔

 

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال نپاہ وائرس کے محدود کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، گزشتہ سال صرف 10 کیسز سامنے آئے۔ 

 

اس وائرس کا پہلا کیس 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا، جبکہ پاکستان میں تاحال نپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

 

ڈاکٹر نوشین ناصر کے مطابق نپاہ ایک زونوٹک انفیکشن ہے، جو جانوروں سے انسان میں منتقل ہوتا ہے، تاہم انسان سے انسان میں اس کے پھیلنے کے امکانات کم ہیں، اسی وجہ سے کیسز محدود تعداد میں ہوتے ہیں۔ 

 

زیادہ تر کیسز مشرقی بھارت، بنگلادیش اور سنگاپور میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

 

اس سال بھارت میں دو زندہ بچ جانے والے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 

 

پاکستان میں نپاہ وائرس کے کوئی کیسز موجود نہیں ہیں اور قومی سطح پر فوری اسکریننگ کی ضرورت نہیں۔ 

 

کسی مشتبہ کیس کی صورت میں ٹیسٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں کرائے جائیں گے، جہاں ریئر انفیکشنز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے۔

 

ماہرین نے کہا کہ یہ وائرس متاثرہ چمگادڑ، لعاب، کھانسی، آنکھوں کے پانی یا آلودہ پھلوں سے منتقل ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان میں پھیلاؤ آسان نہیں۔ 

 

اس وقت الگ وارڈ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

احتیاطی تدابیر کے طور پر عوام کو مشورہ دیا گیا کہ ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، پھل دھو کر کھائیں اور آدھا کٹا پھل نہ کھائیں۔ 

 

ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، جبکہ شدید کیسز میں دماغی سوزش، مرگی جیسے دورے اور اعصابی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

 

ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ بڑے صحت کے چیلنجز میں خسرہ، چکن پاکس، ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی شامل ہیں۔ 

 

خسرہ اور چکن پاکس تیزی سے پھیلتے ہیں لیکن ویکسین کے ذریعے ان سے بچاؤ ممکن ہے۔ 

 

انہوں نے خبردار کیا کہ ایچ آئی وی اب عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔