تازہ ترین - 10 فروری 2026
ایران نے نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو ساڑھے سات سال قید کی سزا سنا دی
دنیا - 09 فروری 2026
ایران نے نوبیل امن انعام یافتہ اور معروف انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو خواتین کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کے باعث ساڑھے سات سال قید کی نئی سزا سنا دی ہے، عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔
نرگس فاؤنڈیشن کے مطابق 53 سالہ نرگس محمدی نے حال ہی میں ایک ہفتے کی بھوک ہڑتال ختم کی، جس کے بعد انہوں نے جیل سے اپنے وکیل مصطفیٰ نیلی کو مختصر فون کال میں آگاہ کیا کہ انہیں ہفتے کے روز نئی سزا سنائی گئی ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
فاؤنڈیشن نے بتایا کہ نرگس محمدی کو کئی ہفتوں تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا اور ان کا مکمل طور پر رابطہ منقطع رہا، جس کے بعد وہ محدود وقت کے لیے اپنے وکیل سے بات کر سکیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق انہیں قومی سلامتی کے خلاف سازش کے الزام میں 6 سال اور حکومت مخالف پراپیگنڈے کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی شہر خوسف میں دو سال کی اندرونی جلا وطنی اور دو سالہ سفری پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
نرگس محمدی کو 12 دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے وکیل خسرو علی کردی کی مشتبہ موت کی مذمت کی تھی۔
پراسیکیوٹر کے مطابق انہوں نے مشہد میں منعقدہ یادگاری تقریب میں اشتعال انگیز بیانات دیے اور نعرے بازی کی حوصلہ افزائی کی۔
یاد رہے کہ نرگس محمدی کو 2023 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا اور وہ اس وقت بھی خواتین کے حقوق اور ایران میں سزائے موت کے خاتمے کی وکالت کے الزام میں قید تھیں۔
دیکھیں

