تازہ ترین - 10 فروری 2026
منی اسٹروک کی 7 علامات جو ہر کسی کو معلوم ہونی چاہئیں
تازہ ترین - 09 فروری 2026
’منی اسٹروک‘، جسے طبی اصطلاح میں ٹرانزینٹ اسکیمک اٹیک (TIA) کہا جاتا ہے، دماغ تک خون کی عارضی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ عارضی فالج عام طور پر مستقل نقصان نہیں پہنچاتا، مگر یہ بڑے فالج کی سنگین وارننگ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس کی علامات چند منٹ یا 24 گھنٹوں کے اندر ختم ہو سکتی ہیں، لیکن ان کو نظرانداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکی اسٹروک ایسوسی ایشن نے منی اسٹروک کو طبی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2021 میں دنیا بھر میں تقریباً 9 کروڑ 38 لاکھ فالج کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 1 کروڑ 19 لاکھ نئے کیسز شامل تھے۔
منی اسٹروک کی 7 اہم علامات:
- چہرے کا اچانک ٹیڑھا ہونا: ایک طرف کے چہرے کے پٹھے کمزور یا لٹک جانا، مسکرانے پر یکساں حرکت نہ ہونا۔
- بازو یا ٹانگ میں کمزوری: اچانک سن ہونا یا کمزوری، ایک طرف کے بازو یا ٹانگ کو اٹھانے میں دشواری۔
- بولنے میں دقت: آواز کا لڑکھڑانا، الفاظ صحیح ادا نہ کرنا یا بات سمجھنے میں مشکل۔
- نظر کی خرابی: اچانک دھندلا دکھائی دینا، ڈبل نظر آنا یا آنکھ کے سامنے پردہ سا آ جانا۔
- چکر یا توازن کا بگڑنا: شدید چکر آنا، چلنے یا کھڑے ہونے میں مشکل، متلی یا قے۔
- ہم آہنگی میں مسئلہ: سیدھا نہ چل پانا، ہلکی ہلکی لڑکھڑاہٹ یا سادہ کاموں میں توازن کا فقدان۔
- الجھن یا نگلنے میں مشکل: اچانک تذبذب، بات نہ سمجھ پانا، یا خوراک و پانی نگلنے میں دشواری۔
اہم ہدایت:
اگر علامات ظاہر ہوں اور چند منٹ میں ختم ہو جائیں، تو فوراً اسپتال جائیں۔ ماہرین کے مطابق منی اسٹروک کے بعد 48 گھنٹوں میں بڑے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا، کولیسٹرول کم کرنا، ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات لینا، صحت مند غذا کا استعمال اور باقاعدہ ورزش کرنا ضروری ہے تاکہ منی یا میجر اسٹروک سے بچا جا سکے۔
دیکھیں

