افطار تک چاق و چوبند رہنے کا راز: رمضان میں کون سی غذا دے گی دیرپا توانائی؟

news-banner

تازہ ترین - 19 فروری 2026

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ماہرینِ غذائیت نے روزے کے دوران جسمانی توانائی، پانی کی کمی سے بچاؤ اور مجموعی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن خوراک کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔

 

 ان کے مطابق درست غذائی انتخاب روزہ دار کو دن بھر متحرک اور چاق و چوبند رکھ سکتا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ یہی دن بھر کی توانائی کی بنیاد بنتی ہے۔

 

 سحری میں ایسے پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس شامل کیے جائیں جو آہستہ آہستہ ہضم ہوں، جیسے اوٹس، ہول ویٹ روٹی، براؤن چاول اور جو۔

 

 یہ غذائیں بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتی ہیں اور طویل وقت تک توانائی فراہم کرتی ہیں۔

 

اس کے ساتھ پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈے، دہی، دالیں، لوبیا اور گریاں شامل کرنا بھی مفید ہے، جو نہ صرف پٹھوں کو مضبوط رکھتی ہیں بلکہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس بھی دیتی ہیں۔

 

ماہرین نے افطار سے سحری تک کم از کم ایک سے دو لیٹر پانی پینے کی ہدایت کی ہے۔ مزید یہ کہ کھیرا، مالٹا اور دیگر پانی سے بھرپور پھل اور سبزیاں بھی جسم میں ہائیڈریشن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

 

 

افطار کے وقت روزہ کھجور اور پانی سے کھولنا بہترین عمل قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے جسم کو فوری توانائی اور ضروری نمکیات حاصل ہوتے ہیں۔

 

 متوازن افطار کے لیے آدھی پلیٹ سبزیوں پر مشتمل ہو، ایک چوتھائی حصہ پروٹین (چکن، مچھلی یا دال) اور باقی حصہ پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس پر رکھا جائے۔

 

ماہرین نے تلی ہوئی، زیادہ میٹھی اور پراسیسڈ غذاؤں سے اجتناب کی تلقین کی ہے کیونکہ یہ بدہضمی اور اچانک تھکن کا سبب بن سکتی ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہر فرد کی جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے کسی بڑی غذائی تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر یا مستند ڈائٹیشن سے مشورہ کرنا ضروری ہے، خاص طور پر اگر کوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو۔