وزن کم کرنے والی ادویات منشیات کی لت اور اموات کے خطرے کو کم کر سکتی ہیں: تحقیق

news-banner

تازہ ترین - 06 مارچ 2026

نئی امریکی تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے کوکین، الکوحل اور دیگر منشیات کی لت اور ان سے ہونے والی اموات کے خطرے میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

 

طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق GLP-1 ایگونِسٹ نامی ادویات نقصان دہ مادوں کی وجہ سے ہونے والی اموات کے خطرے کو تقریباً 50 فیصد تک کم کر سکتی ہیں، تاہم ماہرین نے نتائج کی تشریح میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ تحقیق براہِ راست سبب اور نتیجہ ثابت نہیں کرتی۔

 

تحقیق میں امریکی محکمہ برائے سابق فوجیوں کے ہیلتھ کیئر ڈیٹا بیس میں موجود چھ لاکھ سے زائد ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ 

 

ان میں سے کچھ نے GLP-1 ادویات استعمال کیں جبکہ کچھ نے ذیابیطس کی پرانی نوعیت کی ادویات استعمال کیں۔

 

تین سال کے دوران محققین نے الکوحل، بھنگ، کوکین اور نکوٹین سمیت مختلف منشیات کے اثرات کا جائزہ لیا۔

 

 نتائج کے مطابق پہلے سے منشیات کی لت رکھنے والے سابق فوجیوں میں GLP-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں اموات کی شرح 50 فیصد کم، اوور ڈوز کے واقعات 40 فیصد کم، ہنگامی ڈیپارٹمنٹ کے دوروں کی شرح 30 فیصد کم اور اسپتال میں داخلوں یا خودکشی کے خیالات و کوششوں میں تقریباً 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔

 

ایسے سابق فوجیوں میں جنہیں کبھی منشیات کی لت نہیں رہی، GLP-1 ادویات کے استعمال سے مستقبل میں لت پیدا ہونے کا خطرہ 14 فیصد کم پایا گیا۔

 

واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق یہ حیران کن تھا کہ GLP-1 ادویات مختلف اقسام کی منشیات کی لت کو روکنے سے وابستہ دکھائی دیں۔ 

 

تاہم تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے اور اس سے یہ براہِ راست ثابت نہیں ہوتا کہ نتائج کی وجہ یہی ادویات ہیں۔

 

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ یہ اثر کسی ایک مادے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام نشہ آور اشیاء میں دیکھا گیا۔ 

 

امکان ہے کہ یہ ادویات دماغ میں خوشی یا انعام کے احساس کے نظام کو متاثر کر کے نشے کی لت پر اثر ڈالتی ہوں۔

 

تحقیق میں زیادہ تر افراد عمر رسیدہ سفید فام مرد تھے، لیکن ابتدائی شواہد کے مطابق خواتین میں بھی اثرات تقریباً یکساں تھے۔

 

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پالیسی ساز قبل از وقت GLP-1 ادویات کو نشے کے علاج کے لیے استعمال کرنے کے بیانیے سے گریز کریں، کیونکہ ان کی قیمت زیادہ ہے اور دستیابی محدود ہے، حتیٰ کہ اگر آئندہ کلینیکل ٹرائلز سے مؤثر ثابت ہوں۔