ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت کو 8 آسان اقدامات سے پلٹایا جا سکتا ہے: ماہرینِ صحت

news-banner

تازہ ترین - 07 مارچ 2026

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت کی تشخیص بظاہر تشویش کا باعث بنتی ہے، تاہم یہ دراصل ایسا مرحلہ ہے جہاں بروقت احتیاط اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے آئندہ پیدا ہونے والی ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔

 

ماہرین کے مطابق جب خون میں شکر کی مقدار معمول سے زیادہ ہو لیکن اتنی زیادہ نہ ہو کہ اسے مکمل ذیابیطس قرار دیا جائے تو اس حالت کو ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت کہا جاتا ہے۔ 

 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اچانک نہیں ہوتی بلکہ کئی برسوں میں آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہے، اور اگر اس مرحلے پر توجہ نہ دی جائے تو یہ دل، خون کی نالیوں اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

 

اکثر افراد میں اس کیفیت کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم بعض لوگوں میں زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، تھکن محسوس ہونا، نظر دھندلا جانا اور گردن یا بغلوں پر سیاہ دھبے پڑ جانا جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق یہ ایک خطرے کی گھنٹی ضرور ہے مگر آخری مرحلہ نہیں، کیونکہ بروقت اقدامات سے مستقبل میں ذیابیطس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

 

اس کیفیت کو قابو میں رکھنے کے آٹھ مؤثر طریقے:

 

وزن کم کرنا:


اگر وزن زیادہ ہو تو جسمانی وزن کا صرف پانچ سے سات فیصد کم کرنا بھی ذیابیطس کے خطرے کو تقریباً اٹھاون فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

 

متوازن غذا اختیار کرنا:


پھل، سبزیاں، دالیں، ثابت اناج، صحت مند چکنائی اور پروٹین کو خوراک میں شامل کریں جبکہ چینی اور میٹھے مشروبات سے پرہیز کریں۔

 

جسمانی سرگرمی بڑھانا:


ہفتے میں کم از کم ایک سو پچاس منٹ تیز چہل قدمی یا سائیکل چلانے جیسی سرگرمیاں اختیار کریں اور ہفتے میں دو دن طاقت بڑھانے والی ورزشیں کریں۔

 

مناسب نیند لینا:


روزانہ سات سے نو گھنٹے پرسکون نیند ہارمونز کے توازن اور جسم میں شکر کو قابو میں رکھنے کے نظام کو بہتر بناتی ہے۔

 

ذہنی دباؤ کم کرنا:


مسلسل ذہنی دباؤ خون میں شکر کی مقدار بڑھا سکتا ہے، اس لیے مراقبہ، یوگا یا گہری سانس کی مشقیں مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

 

تمباکو نوشی ترک کرنا:


سگریٹ نوشی جسم میں شکر کو قابو میں رکھنے کے عمل کو متاثر کرتی ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

 

خون میں شکر کی مقدار پر نظر رکھنا:


باقاعدگی سے جانچ کرنے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ خوراک اور طرزِ زندگی کا جسم پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

 

باقاعدہ طبی معائنہ کروانا:


ڈاکٹر سے باقاعدہ مشورہ لینے سے صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور بروقت رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اس کیفیت کی بڑی وجوہات میں موروثی عوامل، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، بڑھتی عمر اور ہارمون سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو اس کیفیت کو نہ صرف قابو میں رکھا جا سکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں مکمل طور پر ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔