تازہ ترین - 07 مارچ 2026
جاپان میں پارکنسن کے علاج میں تاریخی پیشرفت، خلیاتی علاج کی منظوری
تازہ ترین - 07 مارچ 2026
جاپان نے پارکنسن کی بیماری اور دل کی کمزوری کے علاج کے لیے خلیات پر مبنی نئے علاج کی منظوری دے دی ہے، جسے طبی میدان میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
توقع ہے کہ یہ علاج آئندہ چند ماہ میں مریضوں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق جاپانی دوا ساز کمپنی سومیتومو نے پارکنسن کے علاج کے لیے ایک نئے طریقۂ علاج کی تیاری اور فروخت کی اجازت حاصل کی ہے۔
اس طریقے میں خصوصی خلیات کو مریض کے دماغ میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ خراب ہو چکے خلیات کی جگہ نئے خلیات کام کر سکیں۔
اسی طرح جاپان کی وزارتِ صحت نے دل کے مریضوں کے لیے ایک اور علاج کی بھی منظوری دی ہے جسے ایک نئی کمپنی نے تیار کیا ہے۔
اس طریقے میں خلیاتی پرتیں دل میں نئی خون کی نالیاں بنانے اور دل کی کارکردگی بہتر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ دونوں علاج رواں سال گرمیوں تک مریضوں کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں اور یہ دنیا میں اپنی نوعیت کے پہلے تجارتی طبی علاج ہوں گے جو خلیاتی تحقیق پر مبنی ہیں۔
اس تحقیق کی بنیاد رکھنے والے جاپانی سائنس دان شنیا یاماناکا کو 2012 میں نوبیل انعام دیا گیا تھا۔
ان کے دریافت کردہ خلیات جسم کے مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جاپان کے وزیرِ صحت کینیچیرو یوینو نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پیشرفت سے نہ صرف جاپان بلکہ دنیا بھر میں پارکنسن اور دل کے مریضوں کو فائدہ پہنچے گا۔
طبی تحقیق کے دوران پارکنسن کے سات مریضوں پر اس علاج کو آزمایا گیا جس میں چار مریضوں کی علامات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جبکہ کسی بڑے مضر اثر کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
پارکنسن کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق پارکنسن ایک دائمی اعصابی بیماری ہے جو جسم کی حرکت کو متاثر کرتی ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔
موجودہ علاج زیادہ تر صرف علامات کو کم کرنے تک محدود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق خلیاتی علاج مستقبل میں اس بیماری کے لیے بڑی امید ثابت ہو سکتا ہے۔
دیکھیں

