دنیا - 11 مارچ 2026
شزہ فاطمہ خواجہ: سائبر سکیورٹی کے بغیر ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور ترقی ممکن نہیں
پاکستان - 11 مارچ 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے ملک میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 32 سے زائد سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور موبائل ایپس کے ذریعے نادرا کی دستاویزات تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔
مزید ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے قوانین، پالیسیوں اور نظام کو سائبر سکیورٹی کے لحاظ سے مضبوط بنایا جائے۔
سائبر سکیورٹی سے متعلق ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جب تک پاکستان میں مضبوط سائبر سکیورٹی نظام قائم نہیں ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں مکمل اعتماد پیدا نہیں ہوسکتا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سائبر سکیورٹی صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہر شہری کی ذاتی شناخت، ذاتی سلامتی، گھروں اور خاندانوں کی حفاظت سے لے کر قومی سلامتی تک کے تمام پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں صحت کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجیز استعمال ہو رہی ہیں۔
ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے بیماریوں کے بہتر علاج کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی ڈیٹا کے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
شزہ فاطمہ نے مزید کہا کہ اگر کسی کے پاس آبادی کے جینیاتی ڈیٹا تک رسائی ہو تو اس کے غلط استعمال کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، اسی لیے ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی کو انتہائی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سائبر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے سائبر سکیورٹی ایکٹ اور متعلقہ اداروں کو فعال بنانے پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے آخر میں کہا کہ سائبر سکیورٹی ایک انتہائی اہم شعبہ ہے جس میں مختلف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور حکومت اس کے لیے خصوصی وسائل اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
دیکھیں

