وزیر تجارت کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور فجیرہ کے راستوں سے ایکسپورٹ محفوظ ہیں

news-banner

پاکستان - 12 مارچ 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس بحیرہ احمر اور فجیرہ کے سمندری راستے موجود ہیں، جس سے برآمدات پر موجودہ کشیدگی کے اثرات سے بچا جا رہا ہے۔

 

 انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے کی صورت میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا اور حکومت اضافی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرے گی۔

 

 وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ایکسپورٹرز کو بہت زیادہ سبسڈی فراہم نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے اصولوں کے دائرہ کار میں آتا ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

 

 سبسڈی کا انحصار معاشی معاہدوں اور آئی ایم ایف کے پروگرام پر ہے۔

 

جام کمال خان نے مزید کہا کہ عمان، فجیرہ اور بحیرہ احمر میں موجود تجارتی سرگرمیاں فی الحال متاثر نہیں ہوئی ہیں، جبکہ قطر، بحرین اور دبئی میں کچھ تجارتی بیڑے متاثر ہوئے ہیں اور کراچی پورٹ سے مڈل ایسٹ جانے والے جہاز رک گئے ہیں۔

 

 تاہم متبادل تجارتی راستوں پر بات چیت جاری ہے اور تیل کی ترسیل کویت، سعودی عرب اور قطر کے راستوں سے ہو رہی ہے۔

 

وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی کوشش ہے کہ کشیدگی کم ہو، اور موجودہ سمندری راستے برآمدات کو متاثر ہونے سے بچا رہے ہیں۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان متاثر ہوا تو پاکستان کے بلوچستان کی معیشت اور سیاسی حالات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔