تازہ ترین - 25 مارچ 2026
سابق بھارتی کرکٹر نے نسل پرستی کے واقعات بے نقاب کر دیے، ’چاکلیٹ کیک‘ واقعہ بھی سامنے آ گیا
کھیل - 25 مارچ 2026
سابق بھارتی کرکٹر لکشمن شیوارام کرشنن نے اپنے کیریئر کے دوران پیش آنے والے نسل پرستی کے متعدد واقعات کا انکشاف کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ انہیں اپنے کیریئر میں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا رہا، جس کی ایک بڑی وجہ رنگ پرستی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ 14 سال کے تھے اور چیپوک میں بھارتی کیمپ کے دوران ایک سینئر کھلاڑی نے انہیں جوتے صاف کرنے کو کہا، جس پر وہ حیران رہ گئے کیونکہ انہیں گراؤنڈ اسٹاف سمجھ لیا گیا تھا۔
کرشنن کے مطابق انہیں تمل ناڈو ٹیم میں بھی رنگ کی بنیاد پر ’کروپا‘ کہا جاتا تھا، جبکہ مختلف شہروں میں شائقین بھی ان کے رنگ کا مذاق اڑاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے تکلیف دہ واقعہ ان کی 17ویں سالگرہ پر پیش آیا جب ایک سینئر کھلاڑی نے ’چاکلیٹ کیک‘ کو ان کے رنگ سے جوڑ دیا۔
اس موقع پر سنیل گواسکر نے انہیں تسلی دی، تاہم وہ جذباتی ہو گئے تھے۔
یہ انکشافات بھارتی کرکٹ میں نسل پرستی اور کھلاڑیوں پر ذہنی دباؤ کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔
دیکھیں

