کھیل - 26 مارچ 2026
امریکہ میں لاکھوں افراد طرز زندگی کی وجہ سے ڈیمنشیا کے خطرے میں، نئی تحقیق
تازہ ترین - 26 مارچ 2026
ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکہ میں لاکھوں افراد دماغی تنزلی اور یادداشت ختم کرنے والی بیماری ڈیمنشیا کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
اس وقت تقریباً 70 لاکھ امریکی ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور توقع ہے کہ یہ تعداد 2050 تک دگنی ہو جائے گی۔
محققین اب طرز زندگی میں تبدیلیوں پر توجہ دے رہے ہیں جو اس بیماری سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق تقریباً نصف ڈیمنشیا کے کیسز طرز زندگی سے جڑے ہوتے ہیں، جن میں ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس شامل ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں تقریباً 3 لاکھ امریکیوں کو دو سال تک فالو کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس بھی خطرہ بڑھاتی ہے، مگر یہ عموماً طرز زندگی سے منسلک ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 1 ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے، جسے روکا نہیں جا سکتا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس خون میں شوگر کی بار بار کمی اور زیادتی کے ذریعے دماغ کے اہم حصے ہیپو کیمپس میں سوزش اور خلیاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
شدید انسولین کمی دماغی خلیات کو توانائی سے محروم کر سکتی ہے اور نقصان دہ پروٹین جمع ہونے کا باعث بن سکتی ہے، جو ڈیمنشیا سے جڑے ہوتے ہیں۔
شوگر کی اتار چڑھاؤ دماغ کی خون کی نالیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے ویسکولر ڈیمنشیا ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں شامل 2 لاکھ 83 ہزار افراد کی اوسط عمر 65 سال تھی اور دوران تحقیق 2,348 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔
نتائج کے مطابق ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں خطرہ 2.8 گنا اور ٹائپ 2 میں تقریباً دگنا تھا، حتیٰ کہ عمر اور تعلیم جیسے عوامل مدنظر رکھنے کے بعد بھی۔
بوسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر جینیفر ویوو کے مطابق طبی نگہداشت میں ترقی کے باعث ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کی عمر میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے اب اس بیماری اور ڈیمنشیا کے خطرے کے تعلق کو سمجھنا اہم ہو گیا ہے۔
دیکھیں

