دنیا - 05 دسمبر 2025
امریکا کے ممکنہ زمینی حملے پر غور کے درمیان مادورو کا کہنا ہے: وینزویلا دفاع کے لیے تیار ہے
دنیا - 02 دسمبر 2025
نکولس مادورو نے کہا ہے کہ وینزویلا کے عوام اپنے ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جبکہ امریکہ وینزویلا پر زمینی حملے پر غور کر رہا ہے۔
کاراکاس میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مادورو نے امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کیا، جو حال ہی میں اُن کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث قرار دیتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ زمینی کارروائی “بہت جلد” شروع ہوسکتی ہے، اور پیر کے روز انہوں نے اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس بھی کیا۔ اجلاس کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر کے پاس “متعدد آپشن” موجود ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی افواج کم از کم 21 ایسی کشتیوں پر حملے کر چکی ہیں جنہیں وہ منشیات لے جانے والی قرار دیتی ہیں، جبکہ وہائٹ ہاؤس نے مادورو پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا ہے، جسے وہ سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
مادورو—جنہیں مغربی ممالک اکثر آمر قرار دیتے ہیں—کا کہنا تھا کہ وینزویلا کے عوام “ملک کے دفاع اور امن کے راستے کی حفاظت” کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک گزشتہ 22 ہفتوں سے امریکی “نفسیاتی دہشت گردی” کا سامنا کر رہا ہے۔
وینزویلا نے امریکی حملوں، جن میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کو قتل قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کا اصل مقصد مادورو کو ہٹانا اور ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے۔ امریکہ کی کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اگرچہ پینٹاگون نے انہیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔
2 ستمبر کے واقعے نے سب سے زیادہ تنازع کھڑا کیا، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے اور پہلی کارروائی کے بعد دو زندہ بچ جانے والوں کے باوجود کشتی پر دوسرا حملہ کیا گیا۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مبینہ طور پر حکم دیا تھا کہ کشتی میں موجود سب کو مار دیا جائے، تاہم انہوں نے اسے “جھوٹی خبر” قرار دیتے ہوئے تردید کی ہے۔
امریکہ نے کشتیوں کو تباہ کیے جانے کی ویڈیوز تو جاری کی ہیں، مگر منشیات کے شواہد سامنے نہیں لائے۔
اسی دوران امریکہ نے بحیرہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں فوجی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر اور ہزاروں فوجی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مادورو سے فون پر بات کی، جو “نہ اچھی تھی نہ بری۔” انہوں نے وینزویلا کی فضائی حدود کو “بند” قرار دیا، جسے کاراکاس نے غیر قانونی اور نوآبادیاتی جارحیت قرار دیا ہے۔
دیکھیں

