چین میں روبوٹس کے لیے مصنوعی جلد تیار، انسانوں کی طرح درد محسوس کرنے کی صلاحیت

news-banner

تازہ ترین - 05 جنوری 2026

چین کے سائنس دانوں نے روبوٹس کے لیے جدید مصنوعی جلد (الیکٹرانک اسکن) تیار کر لی ہے، جس کی مدد سے روبوٹس نہ صرف لمس بلکہ درد کو بھی محسوس کر سکیں گے۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے انجینئر یو یو گاؤ کی قیادت میں تیار کی گئی یہ مصنوعی جلد نیورومورفک ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو انسانی اعصابی نظام کی طرز پر کام کرتی ہے۔

 

سائنس دانوں کے مطابق اگر روبوٹ کسی گرم یا نوکیلی چیز کو چھوتا ہے تو یہ مصنوعی جلد فوری طور پر برقی سگنلز پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں روبوٹ انسانوں کی طرح فوراً ردعمل دیتے ہوئے ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے۔

 

یہ مصنوعی جلد چار فعال تہوں پر مشتمل ہے، جو لمس کو اعصابی پیغامات جیسی برقی لہروں میں تبدیل کرتی ہے۔ ہلکے دباؤ کو عام لمس سمجھا جاتا ہے، جبکہ دباؤ کی شدت بڑھنے پر روبوٹ اسے درد کے طور پر محسوس کرتا ہے۔

 

اس ٹیکنالوجی کی نمایاں خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے، جو مرکزی پروسیسر کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست موٹرز کو سگنل بھیجتا ہے، جس سے ردعمل میں کسی تاخیر کے بغیر حرکت ممکن ہو جاتی ہے۔

 

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی جلد مضبوط اور حساس ہے، مقناطیسی ماڈیولز پر مشتمل ہے اور اگر کسی حصے کو نقصان پہنچے تو چند سیکنڈ میں اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔